الاسکا : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی امریکی ریاست الاسکا کے شہر اینکرج میں آج اہم سربراہی ملاقات ہو رہی ہے، جس میں یوکرین جنگ سمیت متعدد عالمی امور پر بات چیت متوقع ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب پوتن یوکرین کے چار مقبوضہ علاقوں — ڈونیٹسک، لوہانسک، زاپوریژیا اور خرسن — کو روسی تسلط میں رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ایک عالمی "امن ساز" کے طور پر خود کو منوانا چاہتے ہیں۔
بی بی سی کے تجزیے کے مطابق پوتن اس ملاقات کو اپنی بین الاقوامی حیثیت کی بحالی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ الاسکا میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا عندیہ ہے کہ روس کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی مغربی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
ٹرمپ کے بیانات میں تضاد کے باوجود، وہ اس موقع کو یوکرین جنگ کے خاتمے کی سمت ایک "پیش رفت" قرار دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ نوبل امن انعام جیسے اعزازات کی خواہش رکھتے ہیں۔
ادھر کریملن کا مقصد واضح ہے: پوتن چاہتے ہیں کہ امریکہ یوکرین پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہو، تاکہ روس کے مطالبات کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا جا سکے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کریملن کے لیے ایک بڑی سیاسی فتح ہو گی۔
ملاقات کی جگہ بھی علامتی اہمیت رکھتی ہے۔ الاسکا، جو کبھی روسی زمین تھی، اب امریکہ کا حصہ ہے۔ اس مقام پر ملاقات کا مطلب طاقت، تاریخ اور موجودہ سیاسی پیغام دہی کا امتزاج ہے۔
صدر ٹرمپ نے ملاقات سے پہلے اسے ایک "سننے کا سیشن" قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ ابتدائی چند منٹوں میں ہی فیصلہ کر لیں گے کہ بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے یا نہیں۔
دنیا کی نظریں اس ملاقات پر جمی ہوئی ہیں، اور یہ سوال بدستور باقی ہے کہ کیا یہ ملاقات واقعی امن کی طرف قدم ہو گی یا صرف جغرافیائی مفادات کی نئی صف بندی؟