اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ایران پر اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی ہے، جسے تہران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ جارحانہ اقدام پورے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
او آئی سی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس جارحیت کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے تاکہ خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال دوبارہ بحال ہو سکے۔ تنظیم نے اسرائیل کے اس حملے کو "خطے میں امن کے لیے سنگین چیلنج" قرار دیا ہے۔
عالمی رہنماؤں کا اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش
اسرائیلی حملے کے بعد عالمی رہنماؤں نے بھی اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو "خطرناک" قرار دیا، اور روسی ہم منصب، ولادیمیر پیوٹن سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ایرانی نمائندوں سے بات چیت کے لیے دوبارہ تیار ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان بھی اس معاملے پر رابطہ ہوا۔ ترک صدر نے اسرائیل کو خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا، اور کہا کہ "اسرائیل ایران پر حملوں سے غزہ میں ہونے والی نسل کشی سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے"۔ رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ نیتن یاہو خطے کو مزید کشیدگی میں دھکیلنے اور جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔