اسلام آباد : پاکستان سمیت 20 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ تہران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
مشترکہ بیان پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں ایران پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین، جینیوا کنونشنز، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بگڑتی صورتحال اور بڑھتی کشیدگی خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔
بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایران پر حملے فوری طور پر روکے، کیونکہ یہ اقدامات نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات، جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہیں، انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی تنازع کا واحد حل سفارتی بات چیت اور پرامن مذاکرات ہیں۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری و تباہ کن ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینے کی فوری ضرورت ہے اور تمام ممالک کو ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) میں شامل ہونا چاہیے۔
بیان میں شامل ممالک میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، عراق، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین، کویت، لیبیا، سوڈان، صومالیہ، جبوتی، مراکش، برونائی، الجزائر، کوموروس اور اسلامی جمہوریہ موریطانیہ شامل ہیں۔
اعلامیے میں عالمی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔