Get Alerts

اسرائیل نے ریڈ لائن عبور کی، امریکی مدد کے بغیر حملہ ممکن نہیں تھا: ایران

اسرائیل نے ریڈ لائن عبور کی، امریکی مدد کے بغیر حملہ ممکن نہیں تھا: ایران

تہران: ایران نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے امریکی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھے، اور یہ حملے ایران کی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اسرائیل نے حملہ کر کے تمام ریڈ لائنز پار کر دیں اور ایران کو جوابی کارروائی پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا، "ہم نے جوابی حملے اپنے دفاع میں کیے، ایران نہ صرف اپنا حقِ دفاع استعمال کر رہا ہے بلکہ عالمی قوانین کے مطابق یہ ہمارا اصولی اور قانونی حق بھی ہے۔"

ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن دفاع کرے گا
عباس عراقچی نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران جنگ کو مزید وسعت دینے کا خواہشمند نہیں، "جب تک ہمیں مجبور نہ کیا جائے، ہم نہیں چاہتے کہ یہ جنگ پورے خطے کو لپیٹ میں لے۔"

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور خطے میں طاقت کے بے جا استعمال کو روکے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کو امریکا کی براہ راست مدد حاصل ہے، جس کے شواہد ایران کے پاس موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اسے پرامن جوہری توانائی کے حصول سے روکے۔

اس صورتحال پر چین نے ایران سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین اسرائیل کے حملوں کو عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق، وانگ یی نے کہا کہ ایران کو پرامن جوہری توانائی کے استعمال کا مکمل حق حاصل ہے، اور چین ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے اسرائیلی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا اور مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجی کارروائیاں فوراً بند کرے اور کشیدگی کو مزید ہوا دینے سے باز رہے۔

ٹیگز: