تہران: ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں عائد کی گئی تمام اقتصادی پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دے، تو تہران جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کو تیار ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی شمخانی کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کا اپنا موجودہ ذخیرہ ختم کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ امریکا ایرانی شرائط کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی صرف پرامن، سول مقاصد تک محدود رکھنے کے لیے بھی تیار ہے، مگر اس کے بدلے میں امریکا کو پہلے تمام پابندیاں مکمل طور پر اٹھانا ہوں گی۔
علی شمخانی نے مزید کہا کہ اگر فریقین کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کو رسائی دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے حال ہی میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں ملوث چھ افراد اور بارہ کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں کئی چینی شہری بھی شامل ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اس وقت مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا جب اس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا مکمل احترام کیا جائے اور یکطرفہ پابندیاں ختم کی جائیں۔