نئی دہلی : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس (BRICS) ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واشنگٹن اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اور ایران اپنی آزادی و سرزمین کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ تہران سفارت کاری کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے بھی مکمل آمادہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے برکس ممالک اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں اور تہران کے خلاف غیر قانونی جارحیت کی کھل کر مذمت کریں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ایک غیرت مند قوم ہے اور وہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکیوں کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔
برکس اجلاس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے بھی نئی دہلی میں ایک اہم ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔عالمی اور بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں روس اور ایران کے روابط کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔