لاہور: وزیر مملکت طلال چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی نے روحانیت کا لبادہ اوڑھا اور اہم فیصلوں پر اثرورسوخ کے لیے اپنی قوت استعمال کی۔
طلال چودھری کے مطابق، بشریٰ بی بی خود کو عامل اور پیر بتاتی تھیں اور ان کے اثر و رسوخ نے سیاسی اور انتظامی فیصلوں کو متاثر کیا۔ ان کے الزامات کے مطابق، بشریٰ بی بی نے ذاتی مفاد کے لیے مختلف اداروں میں تقرریاں اور فیصلے کنٹرول کیے، اور “منی گالا” کے حالات پر بھی اثر ڈالا۔
مزید برآں، طلال چودھری نے کہا کہ بعض افراد ذاتی مفاد کے لیے بھی کام کرتے رہے اور بشریٰ بی بی مالی معاملات میں بھی ملوث رہیں، جن میں پلاٹ، ہیرے کی انگوٹھی اور 190 ملین پاؤنڈ کے کیسز شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، یہ الزامات سیاسی اور عدالتی نوعیت کے معاملات میں اہم بحث کا سبب بن سکتے ہیں، اور ابھی قانونی تصدیق اور تحقیقات جاری ہیں۔