Get Alerts

گوگل کا نیا اے آئی ماڈل "نانو بنانا" اب گوگل سرچ، نوٹ بک ایل ایم اور فوٹوز میں دستیاب

گوگل کا نیا اے آئی ماڈل

کیلیفو رنیا : گوگل نے اپنے نئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ویژول ماڈل "نانو بنانا" (جسے جیمنائی 2.5 فلیش بھی کہا جاتا ہے) کو مزید استعمال میں آسان بنانے کے لیے ایک اہم اپ ڈیٹ جاری کیا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ، صارفین اب "نانو بنانا" کو گوگل سرچ، نوٹ بک ایل ایم اور گوگل فوٹوز جیسے مقبول ٹولز میں براہِ راست استعمال کر سکیں گے، جس سے اسے استعمال کرنا پہلے سے کہیں زیادہ سادہ اور تیز ہو جائے گا۔

اب تک، "نانو بنانا" کو صرف گوگل کی مخصوص ایپ "جیمنائی" میں ہی استعمال کیا جا سکتا تھا، لیکن اس نئے اپ ڈیٹ سے صارفین کو اپنی پسندیدہ ایپلیکیشنز میں اے آئی کے ذریعے تصویری مواد تخلیق کرنے کی سہولت ملے گی۔ گوگل کے مطابق، "نانو بنانا" گوگل لینس اور اے آئی موڈ میں گوگل سرچ میں شامل ہو گا، جہاں صارفین اپنے فون کی مدد سے کسی بھی شے کی تصویر لے کر یا کسی تصویر کو اپ لوڈ کر کے اپنی مرضی کے مطابق نئی تصاویر بنا سکیں گے۔

"نانو بنانا" کی طاقتور خصوصیت یہ ہے کہ یہ نہ صرف ٹیکسٹ پر مبنی ہدایات کو سمجھ کر تصاویر تیار کرتا ہے، بلکہ پہلے سے موجود تصویر کی مدد سے بھی اپنی مرضی کی تصویر بنا سکتا ہے، جو اس کو دیگر اے آئی ماڈلز سے مختلف بناتا ہے۔ اس کے ذریعے 5 ارب سے زائد تصاویر تیار کی جا چکی ہیں، اور گوگل کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈل چہرے کی تفصیلات، اشیاء کے لے آؤٹ اور اسٹائل کو مختلف تصاویر میں یکساں رکھتا ہے، جس سے صارفین کو ایک مستقل اور منفرد تجربہ ملتا ہے۔

اگرچہ "نانو بنانا" کی تخلیق کی رفتار اور معیار کی بدولت یہ صارفین میں مقبول ہو چکا ہے، لیکن گوگل تسلیم کرتا ہے کہ کبھی کبھار یہ ماڈل تحریری ہدایات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتا یا غلطیاں کرتا ہے۔ تاہم، زیادہ تر صارفین کی نظر میں اس کی رفتار اور تخلیقی صلاحیت اسے زیادہ قابل قبول بناتی ہے۔

گوگل کے مطابق، نانو بنانا کو مزید بہتر اور وسیع بنانے کا عمل جاری رہے گا، اور مستقبل میں اسے گوگل فوٹوز میں بھی مکمل طور پر دستیاب کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے بعد، اے آئی کے ذریعے تصویری ترمیم اور تخلیق کا عمل مزید عام ہو جائے گا، اور صارفین کو زیادہ مدد فراہم کی جائے گی۔

اس نئے فیچر کی بدولت گوگل اپنے صارفین کو ایک نیا اور جدید تجربہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جو نہ صرف فوٹوگرافی بلکہ مواد تخلیق کرنے کے مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔

ٹیگز: