میانوالی: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے اور فلڈ ریلیف کیمپس میں مقیم افراد کو تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ وہ میانوالی میں سیلاب ریلیف سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔
مریم نواز نے کہا کہ "جو لوگ ریلیف کیمپس میں ہیں وہ ہمارے مہمان ہیں، ان کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے۔" انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے قیمتی جانوں اور مویشیوں کو بچایا، اور فوری طبی امداد کے لیے موبائل اسپتال بھی متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیلاب کے بعد ابھی تک پنجاب میں کسی وبا کے پھیلنے کی اطلاع نہیں ملی، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے وزرا کو ہدایت کی ہے کہ جب تک متاثرین کو مکمل ریلیف نہیں مل جاتا، وہ فیلڈ سے واپس نہ آئیں۔
خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سیلاب ختم ہونے کے بعد متاثرہ افراد کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ڈوبنے اور چھتیں گرنے کے واقعات میں اب تک 100 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
اپنے خطاب میں مریم نواز نے گجرات کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ "گورننس کے اعتبار سے گجرات بدترین نظام کا شکار رہا ہے۔" انہوں نے اعلان کیا کہ گجرات میں 26 ارب روپے کی لاگت سے نیا سیوریج سسٹم نصب کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "تنقید اور باتیں کرنا آسان ہے، کام کرنا مشکل۔" وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انہیں کشتی میں بیٹھنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور امداد نہ مانگنے پر سوال اٹھائے گئے۔ "میں نواز شریف کی بیٹی ہوں، ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی،" انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات حیرت ہوتی ہے کہ تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ وزیراعلیٰ کام کیوں کر رہی ہیں۔