Get Alerts

مشرقی کانگو میں انسانی بحران سنگین، فوری جنگ بندی کی جائے؛ پاکستان کا سلامتی کونسل میں بڑا مطالبہ

 مشرقی کانگو میں انسانی بحران سنگین، فوری جنگ بندی کی جائے؛ پاکستان کا سلامتی کونسل میں بڑا مطالبہ

نیویارک : پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمہوریہ کانگو (DRC) کے مشرقی حصوں میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی اور مؤثر سفارت کاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ قرارداد 2773 پر عملدرآمد: خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سلامتی کونسل کی حالیہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ تشدد کی لہر اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جسے صرف ایک جامع سیاسی حل کے ذریعے ہی روکا جا سکتا ہے۔
 پاکستان نے افریقی یونین کی ثالثی، واشنگٹن پراسیس اور دوحہ فریم ورک جیسی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہےپاکستانی مندوب نے مشرقی کانگو میں جاری بدامنی کی ایک بڑی وجہ قدرتی وسائل کی غیر قانونی کان کنی اور اسمگلنگ کو قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ   وسائل کی اسمگلنگ روکنے کے لیے ایک شفاف عالمی سپلائی چین اور مؤثر علاقائی حکمتِ عملی وضع کی جائے۔ کانگو کے قدرتی وسائل کو گروہی مفادات کے بجائے وہاں کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
عاصم افتخار احمد نے مونوسکو (MONUSCO) کے امن مشن کے کردار کی حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان جمہوریہ کانگو کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سفارتی سرگرمیوں کو محض باتوں تک محدود رکھنے کے بجائے زمینی حقائق بدلنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ا

ٹیگز: