نئی دہلی / امپھال :مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور نسلی تعصب کے خلاف بھارت کے مختلف حصوں میں غم و غصے کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجے میں علیحدگی پسند تحریکوں نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ریاست منی پور میں صورتحال بے قابو ہو گئی ہے جہاں مقامی آبادی اور بھارتی قابض فورسز کے درمیان خونریز تصادم ہوا ہے۔
ریاست منی پور میں بھارتی فورسز کی جانب سے مقامی افراد کی نقل و حرکت پر پابندی اور مخصوص علاقوں میں داخلے سے روکنے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ مشتعل مظاہرین نے بھارتی قابض فورسز کی دو گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے متعدد بھارتی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔
بھارتی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے، جس سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کی ہندو انتہا پسندانہ پالیسیوں نے بھارت کی اقلیتوں اور مختلف ریاستوں کے عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص منی پور میں بھارتی تسلط سے آزادی اور حقوق کی تحریکیں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز ایک قابض فوج کی طرح ان کے حقوق غصب کر رہی ہیں، جس کا جواب اب مزاحمت کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔