Get Alerts

نفرت کے خریدار

نفرت کے خریدار

تحریر: طارق وسیم

سولہ دسمبر بہت سے زخم ہرے کر جاتا ہے ،سانحہ اے پی ایس ہو یا سقوط ڈھاکہ ،پاکستانیوں نے بہت دکھ اٹھائے ہیں ، لیکن وقت  سب سے بڑا منصف اور  محتسب ہے ،جنہیں لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی تھی ۔ آج اسلام آباد سے الحاق کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔مشترکہ دفاع اور معاشی تعلقات  میں بہتری چاہتے ہیں ، جس بھارت اور مکتی باہنی کی مدد سے علیحدگی حاصل کی تھی آج ڈھاکہ کے کاکسز بازار سے لے کر کلکتہ تک کوئی ان کا نام لیوا نہیں  ہے۔بنگلہ دیشی نوجوان پاکستان سے  محبت کرتے ہیں یہ تو اسی وقت پتہ چل گیا تھا جب پاکستانی کرکٹ ٹیم پہلی باروہاں    کرکٹ کھیلنے گئی تھی  ،عوام  نے والہانہ استقبال کیا  تھا۔
  حسینہ واجد کی حکومت جانے کے بعد جس قسم کا رد عمل سامنے آیا ہے وہ پاکستان کے لیے مثبت اور بھارت کے لیے انتہائی غیر متوقع تھا یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار اور اس کے گماشتے اب بنگلہ دیش پر ہمہ وقت طبرہ کرتے نظر آتے   ہیں،بہت سارے لوگوں کی خواہش اور اجیت دوول جیسے انٹیلی جنس ماہرین کا ماننا یہ تھا کہ بنگلہ دیش کی طرز  پر پاکستان میں  مزید تقسیم اور تفریق پیدا کی  جا سکتی ہے ۔
ٹارگٹ بلو چستان ،کراچی اور حیدر آباد کے  اردو بولنے  والے تھے جن کی اکثریت  بھارت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتی ہے ،لیکن بھلا ہو  براہموس میزائل اور رافیل طیاروں کا جن کی صلاحیتوں پر اعتبار کرتے ہوئے بھارتی 7 مئی کو ایسی حرکت کر گئے جس نے پاکستان کے بارے میں     بولے  او رلکھے گئے تمام جھوٹ   بے نقاب کر دیے  ۔
 نو مئی کو جو بھارتی فضائیہ کے ساتھ ہوا اس نے پڑوسیوں کو تو خوف میں مبتلا کیا ہی ہے لیکن دنیا کو بھی یہ بتا دیا ہے کہ پچاس  سال سے مستقل حالت جنگ میں رہنے ولا پاکستان  عسکری لحاظ سے بے حد تگڑا ہے  جس کا مقابلہ کر نا بھارت   کے بس کی بات بھی نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ سے پاکستان کے لیے مستقل پھول ہی جھڑتے نظر آتے ہیں ۔ایران اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل  اور اس  کے سرپرستوں کا خیال تھا کہ ایران چند گھنٹوں میں زیر ہوجائے گا اور شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن جنگ کے بارہ گھنٹے بعد پانسہ پلٹا اور اسرائیل کی ایران کے ہاتھوں پٹائی شروع ہوئی جو جنگ بندی تک جاری رہی ، پتہ نہیں کون تھا جو ایرانی ایئر  سپیس کا تحفظ کررہا  تھا اور کس کا جہاز تھا جو اسرائیلی شہروں میں پرواز کرتا رہا ۔
دنیا کو شاید پتہ نہ چلتا لیکن جنگ کے دوران اور اس کے بعد ایرانی عوام کی ریلیوں میں موجود پاکستانی  جھنڈوں ،ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستانی کی تعریفوں اور احسانات کا شکریہ  سب کچھ بتا گیا ۔رہی سہی کسر ایران کے سپریم لیڈر نے پاکستان کا شکریہ ، ادا کر کے پوری کر دی ،   اپریل کے پاکستان اور دسمبر کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حسینہ واجد اور اس کی جماعت نے نفرت کی جو فصل بوئی تھی انہیں خود ہی کاٹنی پڑی ،آج حسینہ اسی بھارت میں مقیم ہیں جس نے ان کے  باپ کو قتل کیا تھا ۔ بنگال  کی سڑکوں ،گلیوں میں پاکستان سے محبت اور  مجیب الرحمان کی مذمت مستقل جاری ہے ۔یہی تاریخ کا سبق ہے ،حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے نفرت بیچنے والوں کو ایک دن یہ نفرت خود خریدنی پڑتی ہے۔


نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے


طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

ٹیگز: