نئی دہلی/ویب ڈیسک :بھارت کے مقامی سطح پر تیار کردہ جنگی طیارے "تیجس" نے نام نہاد "میڈ ان انڈیا" منصوبے اور ناقص دفاعی صلاحیت کی قلعی کھول دی ہے۔ پے در پے حادثات اور سنگین تکنیکی نقائص کے بعد بھارتی فضائیہ نے 30 تیجس طیاروں پر مشتمل اپنی پوری فلیٹ کو خاموشی سے گراؤنڈ کر دیا ہے، جس سے مودی سرکار کے جنگی جنون اور دفاعی خود انحصاری کے دعووں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
برطانوی میڈیا کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، تیجس پروگرام جو 1981 میں شروع ہوا تھا، ساڑھے چار دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنی ساکھ بنانے میں ناکام رہا ہے۔ دعوئوں کے برعکس بھارت آج تک اس طیارے کا انجن تیار نہیں کر سکا؛ تیجس کے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیاروں کے لیے امریکہ اور اسرائیل پر انحصار کیا جا رہا ہے۔
7 فروری 2026 کو ہونے والے حادثے نے ثابت کر دیا کہ طیارے کا ڈیزائن اور نظام کسی بڑے تکنیکی مسئلے کا شکار ہے، جس کے باعث پوری فلیٹ کو روکنا پڑا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فضائیہ کو اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں، لیکن طیاروں کی مسلسل تباہی اور گراؤنڈنگ سے یہ تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ 6 مارچ کو روسی ساختہ SU-30MKI کا جورہٹ کے قریب گر کر تباہ ہونا بھارتی فضائیہ کی گرتی ہوئی آپریشنل صلاحیتوں کی ایک اور کڑی ہے۔
بھارت کے پاس تاحال ففتھ جنریشن طیارہ موجود نہیں، جبکہ روس کے ساتھ دفاعی سودوں میں امریکی ناراضگی کا خوف رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجس کی ناکامی محض کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور ناقص منصوبہ بندی کی علامت ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ اپنی مطلوبہ جنگی صلاحیت حاصل کرنے سے اب بھی دہائیوں دور ہے، اور "میڈ ان انڈیا" کے نام پر تیار کردہ یہ طیارے میدانِ جنگ کے بجائے گراؤنڈ رہنے کے قابل رہ گئے ہیں۔