نئی دہلی: بھارت میں کرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر مودی سرکار کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ انتہا پسند حکومت کی دوغلی پالیسی اور اقلیتوں سے امتیازی سلوک پر اپوزیشن اور مختلف طبقات نے سوالات اٹھا دیے۔
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوانت سنگھ مان نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان سے جڑے معاملات کو اپنی مرضی سے غداری کا رنگ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم کی شوٹنگ پہلگام واقعے سے پہلے کی تھی، پھر بھی اسے روک دیا گیا، مگر پاکستان کے خلاف کرکٹ میچ کروا لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم کا نقصان فنکاروں کو برداشت کرنا پڑا، جبکہ میچ کا پروڈیوسر وزیر داخلہ کا بیٹا تھا، اس لیے اسے بچا لیا گیا۔ "اگر میچ ہو سکتا ہے تو کرتارپور جا کر عبادت کرنے میں کیا حرج ہے؟"
انہوں نے بی جے پی کی منافقانہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی اور منافقت عروج پر ہے، اور کھیل کو بھی سیاست کا میدان بنا دیا گیا ہے۔