بیروت/تل ابیب : پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی مخلصانہ کوششوں کے بعد ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ 10 روزہ جنگ بندی معاہدے پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہو گیا ہے، جسے عالمی سطح پر اسلام آباد اور واشنگٹن کی مشترکہ سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک میں استحکام کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے. اسرائیلی وزیراعظم نے اس جنگ بندی کو "امن کے لیے ایک تاریخی موقع" قرار دیتے ہوئے اپنی افواج کو کارروائیاں روکنے کی ہدایت کر دی ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ نے بھی بعض شرائط کے ساتھ معاہدے کی پاسداری کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی المیے کے ٹلنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔معاہدے پر عملدرآمد سے چند گھنٹے قبل تک اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان شدید حملوں کا تبادلہ جاری رہا، تاہم اب سرحد کے دونوں اطراف خاموشی ہے اور بین الاقوامی مبصرین صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے تہران، واشنگٹن اور ریاض کے درمیان جو متحرک سفارت کاری کی، اس نے لبنان محاذ پر اس اہم کامیابی کی بنیاد فراہم کی۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کا "امن مشن" اب زمینی نتائج دینا شروع کر چکا ہے۔