Get Alerts

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام — لیجنڈ میزبان کو بچھڑے 5 سال بیت گئے

 دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام — لیجنڈ میزبان کو بچھڑے 5 سال بیت گئے

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان، ہر دلعزیز میزبان، نامور اداکار، شاعر اور سابق رکنِ اسمبلی طارق عزیز کی وفات کو آج پانچ برس گزر گئے، لیکن اُن کی آواز آج بھی مداحوں کے دلوں میں گونجتی ہے۔

28 اپریل 1936 کو جالندھر میں پیدا ہونے والے طارق عزیز نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ جب 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تو طارق عزیز اُس اسکرین کی پہلی آواز بنے، اور پھر پی ٹی وی کا نام طارق عزیز سے ایسا جُڑا کہ دونوں کی شناخت ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہو گئی۔

نیلام گھر، جو بعد میں "طارق عزیز شو" کے نام سے جانا گیا، چالیس برس تک اُن کی پہچان رہا۔ اُن کی منفرد میزبانی، برجستہ جملے اور بے ساختہ انداز نے انہیں ہر دلعزیز بنا دیا۔

طارق عزیز نے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا۔ اُن کی پہلی فلم "انسانیت" 1967 میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد وہ "سالگرہ"، "قسم اس وقت کی"، "چراغ کہاں روشنی کہاں" اور "ہار گیا انسان" جیسی فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔

اداکاری اور میزبانی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو اور پنجابی شاعری میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 1992 میں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔

سیاسی میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا اور 1997 سے 1999 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے۔

17 جون 2020 کو طارق عزیز 84 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اُن کی آواز، ان کا انداز اور اُن کی یادیں آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ٹیگز: