واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں اور نیٹو سمیت دیگر اتحادی ممالک کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں تو وہ فوراً مشرق وسطیٰ پر حملے کر سکتا ہے، اور پرتشدد افراد کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو اور اتحادی ممالک پر شکوہ کیا کہ بحران کے وقت امریکا کی حمایت میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے برطانوی سیاستدان کیئر اسٹارمر پر بھی ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ امریکا نے نیٹو کے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے، لیکن ضرورت کے وقت اتحادی غائب رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایرانی بحری اور فضائی دفاع کو نقصان پہنچایا، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں ڈبو دی ہیں، اور ایران کے بعض اعلیٰ حکام اب مذاکرات کے قابل نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے چین، جاپان، کوریا اور دیگر ممالک سے دوبارہ مدد طلب کی ہے۔
ساتھ ہی، صدر ٹرمپ نے اینٹی فراڈ ٹاسک فورس کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط بھی کیے۔