برسلز :یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی قیادت والے کسی بھی فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لے گی۔ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری کو بہترین حل قرار دیا گیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ رکن ممالک فی الحال خلیج فارس میں بحری مشن کو بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں اور زیادہ تر ممالک جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک، کھاد اور توانائی کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے۔
یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف جنگ کی حکمت عملی پر وضاحت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جرمن چانسلر، فرانس کے صدر اور برطانوی وزیراعظم بھی اس تنازع میں براہ راست فوجی شمولیت سے انکار کر چکے ہیں، اور یورپ کی ترجیح یوکرین کی سکیورٹی اور بحران کا سفارتی حل ہے۔