اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں گلیشیئرز خطرناک حد تک تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جبکہ ملک ہر گزرتے سال موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور اس کے اثرات پاکستان میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو پانی کا قدرتی ذخیرہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو مستقبل میں پانی کی قلت اور سیلاب جیسے بڑے خطرات کا سبب بن سکتے ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال مون سون کا آغاز معمول سے دو ہفتے قبل ہوا، اور ماہرین کے مطابق آئندہ سالوں میں بارشوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے سیلابی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
چیئرمین کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح معمول سے زیادہ ہے، تاہم بھارت کی جانب سے اپنے ڈیمز کا کوئی ڈیٹا شیئر نہیں کیا گیا، جو خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قادر آباد، سدھنائی اور جھنگ کے مقامات پر حفاظتی بند توڑ کر پانی کے ریلے کا دباؤ کم کیا گیا، جبکہ گڈو بیراج پر 5 لاکھ کیوسک کا ریلا جمع ہونے کا امکان ہے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ عالمی فنڈنگ دینے والے ممالک خود موسمیاتی تبدیلی کے بحرانوں سے دوچار ہیں، جس کے باعث تعاون میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں این ڈی ایم اے کی پیشگوئی 98 فیصد تک درست ثابت ہو رہی ہے، اور ہمارے پاس اقوام متحدہ سے بھی بہتر ڈیٹا اور استعداد موجود ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر گلیشیئرز کی نگرانی، پانی کے بہتر انتظام، اور بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں میں مؤثر شرکت کی ضرورت ہے، تاکہ آئندہ نسلوں کو ماحولیاتی آفات سے بچایا جا سکے۔