اسلام آباد: وفاقی وزراء نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا دورہ کیا، جہاں انہیں ملک میں بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں اور ہنگامی اقدامات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میدانی، شہری اور پہاڑی علاقوں کے لیے الگ الگ حکمت عملی تیار کی گئی ہے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے ارلی وارننگ سسٹم کے باعث قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات میں کمی آئی ہے۔ بروقت معلومات کی فراہمی کے ذریعے عوام کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کیا جا رہا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں، تاہم مون سون سے قبل ہی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے تھے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی اداروں کو مزید بااختیار بنانا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تباہ کن سیلابوں کے باعث ملکی معیشت کو سنگین اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک کے تعاون سے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔