اپنے 35 سالہ صحافتی کیریئر میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور پنجاب اسمبلی کے سیکڑوں اجلاسوں کی کوریج کی۔ اس دوران سیکڑوں پریس گیلریز اور سینیٹ ڈائریاں لکھیں۔ ان گنت اجلاسوں کو رپورٹ کیا۔ محمد خان جونیجو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو، ظفراللہ جمالی، شوکت عزیز، چودھری شجاعت حسین، شاہد خاقان عباسی، عمران خان اور اب شہباز شریف کو وزیر اعظم بنتے دیکھا۔ پنجاب میں نواز شریف، غلام حیدر وائیں، منظور وٹو، آصف نکئی، پرویز الٰہی، شہباز شریف، عثمان بزدار اور اب حمزہ شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنتے دیکھا۔ یہ تمام انتخابات بخیر و خوبی انجام پائے۔۔
لیکن جو کچھ گزشتہ روز کے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دیکھا منتخب ایوانوں میں بدنظمی، غنڈہ گردی اور پولیس گردی کی اس سے بُری مثال نہیں ملتی۔ ایسا تو ڈکٹیٹر ضیاالحق اور پرویز مشرف کے فسطایت زدہ ادوار میں بھی نہیں ہوا۔ پہلی بار دیکھا کہ پولیس کے مسلح جتھے پنجاب اسمبلی کے فلور پر منتخب اراکین اسمبلی پر تشدد کر رہے ہیں اور اس ضمن میں خواتین اراکین کو بھی نہ بخشا گیا گو کہ بعض اراکین نے بھی پولس پر تشدد کیا جسکی کسی طور پر حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن پنجاب پولیس نے جس بیدردی سے مقدس ایوان کو تقدس کو پامال کیا اور اپنے جوتوں سے روندا اس پر لفظ مذمت بہت چھوٹا ہے۔
اسمبلی کے کسٹوڈین سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی پر اسمبلی ممبران نے شدید تشدد کر کے اسمبلی فلور پر ان کا بازو توڑ دیا۔ اسی دوران خبر آئی کہ قومی اسمبلی میں پنجاب اسمبلی کے واقعات پر مذمتی قرارداد پاس کی گئی ہے۔ اس پر پنجاب اسمبلی میں سپیکر چیمبر میں بیٹھے چودھری پرویز الٰہی کے فرزند مونس الٰہی کسی کو فون پر کہہ رہے تھے سالک حسین کو کہہ دینا ایک اور قرارداد پاس کر دیں یہاں مسلم لیگ ن والوں نے چودھری پرویز الٰہی کا بازو توڑ دیا ہے۔ افسوس سیاست نے اس خاندان کو بھی تقسیم کر دیا۔
ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے کو اسمبلی کے روسٹرم پر سے ان کی سیٹ سے گھسیٹ کر اٹھا دیا گیا، ان کے بال نوچے گئے اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سب کچھ معزز منتخب ممبران نے کیا۔ اگر اسمبلی سکیورٹی اور پولیس ان کو ہاؤس سے باہر نہ لے کر جاتی تو خدانخواستہ مشرقی پاکستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری جیسا واقع ہو سکتا تھا۔ یاد رہے کہ ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری پر اسمبلی اجلاس میں دھینگا مشتی کے دوران تاک کر سر پر پیپر ویٹ مارا گیا جس سے ان کا انتقال ہو گیا۔ جو کچھ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں ہوا حالات اسی طرف جا رہے تھے لیکن اللہ کا
شکر ہے کہ حالات کنٹرول ہو گئے۔ ممبران کی آپس میں دھینگا مشتی اور فری سٹائل مار کٹائی نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے رائل رمبل کی یاد دلا دی۔ اسمبلی کے فورم پر ایک دوسرے کو جو جو گالیاں بکی گئیں اس پر الاماں والحفیظ ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ ہمارے پڑھے لکھے اور منتخب نمائندے ہیں اور اسمبلی کے مقدس ایوان میں سب کچھ ہوا۔ اس میں اسمبلی اجلاس میں موجود مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق سب برابر کی حصہ دار تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چیف سکرٹری پنجاب ،آئی جی پولیس پنجاب اور لاہور انتظامیہ سب برابر کی ذمہ دار ہیں۔ آئی جی پنجاب نے پولیس کے ذریعے جس بُرے طریقے سے اسمبلی میں ایکشن پلان ترتیب دیا اس سے ہم سب کا سر شرم سے جھک گیا اور ان کی اس حرکت پر ان کی تنزلی بنتی ہے۔ پولیس ایکشن اراکین اسمبلی کو اٹھا اٹھا کر پھینکنے اور ان پر تشدد کے بجائے احسن طریقے سے بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن آئی جی پنجاب نے پنجاب اسمبلی کے ایوان کو مال روڈ پر ہونے والے کسی مظاہرے کی طرح کنٹرول کیا۔ وہ پولیس کی روایتی مار پیٹ کے بجائے اسے پیشہ ورانہ طریقہ سے بھی کنٹرول کر سکتے تھے لیکن انہیں ڈنڈے کی زبان آتی ہے سو وہی اپنایا۔ اس کے علاوہ ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری، پنجاب کی انتظامیہ، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب نے بھی اجلاس کے انعقاد کے لیے ایس او پیز طے کرنے کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ کرنا بھی گوارہ نہ کیا۔ اگر یہ اجلاس ہو جاتا تو شاید جو گزشتہ روز مناظر نظر آئے نہ آتے۔ دیکھا گیا کہ آئی جی چیف سیکرٹری لاہور انتظامیہ اسمبلی سکیورٹی سٹاف سب پارٹی بنے تھے۔ نتیجتاً پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی اسمبلی دنیا بھر میں تماشا بنی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ملک کی سب سے بڑی اسمبلی کے لیڈر آف دی ہاؤس کا انتخاب قائم مقام سپیکر نے اپنے روسٹرم کے بجائے سپیکر گیلری سے کیا۔ کیا ہمارے اراکین میں برداشت کا اتنا بھی مادہ نہیں؟
گزشتہ چند ہفتوں کے سیاسی حالات کا تجزیہ کریں تو ہم سیاست میں سیاسی مخالفت سے بڑھ کر ذاتی دشمنی تک آ گئے ہیں اور روز بروز یہ خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر اس خلیج کو ختم کرنے کے بجائے اپنے سیاسی مقصد کے لیے اسے اور ہوا دے رہے ہیں۔ یہ عمل معاشرے کو تقسیم در تقسیم کر رہا ہے اور ایوانوں میں لڑی جانے والی آگ اب گھر گھر پہنچ رہی ہے۔ پہلے سیاسی تقسیم بھٹو اور اینٹی بھٹو ہوتی تھی اور اب یہ سیاست عمران خان اور باقی ماندہ سیاسی قوتوں کے درمیان رہ گئی ہے۔ ماضی میں ہوتا یہ تھا کہ معاشرے میں سیاسی مخالفت کی آگ منتخب ایوانوں میں آ کر ٹھنڈی ہو جاتی تھی لیکن اب یہ آگ منتخب ایوانوں میں بھڑک اٹھی ہے جو بجھائی نہ گئی تو ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو گی اور خدانخواستہ ہم سول وار کی طرف نہ بڑھ جائیں۔
عمران خان کا کراچی کا جلسہ پشاور کے جلسہ سے بھی بڑا تھا۔ انہوں نے اس جلسے میں وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوٹوں کے حوالہ سے پھر عدلیہ سے اپنے لیے انصاف کے لیے کچھ سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں اور عدلیہ سے ان لوٹوں کے حوالے سے بھی فیصلوں کا کہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ان سوالات کے جوابات کیا آتے ہیں۔ اس جلسے میں ایم کیو ایم کی شہری سندھ کی جماعت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سیاست مخالفت سے دشمنی کی طرف اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اب یہ گھر گھر کی لڑائی بنتی جا رہی ہے۔ البتہ عمران خان کی اپنے ورکروں کو یہ اپیل کہ احتجاج کے دوران قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، اداروں پر تنقید نہ کریں اور پُر امن رہیں۔ یہ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔
آخر میں حمزہ شہباز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد اور امید کرتے ہیں کہ وہ پنجاب کے عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔
کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔