واشنگٹن/انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کے ساتھ جاری تنازع، غزہ کی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے امریکی ہم منصب پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتکاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ ترک صدر نے کہا کہ ترکی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
گفتگو کے دوران غزہ کی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ اردوان نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت متوقع تھی۔ ترکی نے غزہ میں پائیدار امن اور تعمیرِ نو کے اقدامات کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر اردوان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو علاقائی استحکام اور سلامتی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو دستخط کیے تھے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کا خیرمقدم کر چکے ہیں۔