اسلام آباد:سی گلوبل اکنامک فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا ہے کہ یونیورسٹیاں گریجویٹس پیدا کرتی رہیں گی، لیکن مارکیٹ میں اسی رفتار سے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے، جس کے باعث پاکستان میں تعلیم اور روزگار کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مواقع نہیں مل رہے، اس لیے تعلیم اور جاب مارکیٹ کے درمیان موجود گیپ کو ختم کرنا ہوگا۔ صرف ڈگریاں دینا کافی نہیں، نوجوانوں کو روزگار کے لیے درکار عملی مہارتیں بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جامعات میں ہونے والی تحقیق اور عملی زندگی کی ضروریات کے درمیان بھی واضح فرق ہے۔ ریسرچ اور زمینی حقائق کے درمیان موجود گیپ کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ یونیورسٹیوں کو اپنی تحقیق کو مارکیٹ اور صنعت کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا۔
ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔ انٹرپرینیورشپ اور عملی تربیت نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھ کر تعلیمی پروگرامز ترتیب دینا ہوں گے۔ تعلیم، تحقیق اور روزگار کے درمیان رابطہ مضبوط کیے بغیر نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ انڈسٹری، ریسرچ، بزنس کمیونٹی اور طلبا کو ایک دوسرے سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں کو صنعت اور کاروباری شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا اور ریسرچ کو عملی کاروباری ضروریات سے جوڑنے کے لیے مؤثر نظام بنانا ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان نے کہا کہ انڈسٹری، اکیڈمیا اور حکومت کے درمیان قومی سطح کا فریم ورک تشکیل دے کر تینوں شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہوگا۔ یونیورسٹی کی ریسرچ کو صنعت اور کاروباری شعبے تک پہنچا کر اسے معاشی سرگرمی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت، جامعات اور انڈسٹری مل کر نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں، جبکہ طلبا کو تعلیم کے ساتھ عملی تجربات اور مارکیٹ کی ضروریات سے بھی روشناس کرانا ہوگا۔