سمجھ میں نہیں آ رہا کہ با ت پٹر ول کی قیمت میں ایک نئی بڑھو تی سے شر وع کروں یا بجلی کی قیمت میں مسلسل اضا فے سے۔ پٹر ول کی قیمت میں با رہ روپے کے اضا فے سے پہلے سے مر ے ہو ئے عوا م پہ جو بم گرایا سو گرایا مگر اس سے پہلے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت میں تین روپے نو پیسے اضافہ کردیا ہے۔ بجلی کی قیمت اور پٹرول کی قیمت میں ہر ماہ اضافہ معمول بن چکا ہے اور معمول کے واقعات اگرچہ بڑی خبریں نہیں بناتے مگر اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں بجلی کے جھٹکے ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔ بجلی کے ایک یونٹ کی بنیادی قیمت جو 2018ء میں پونے بارہ روپے تھے اب ساڑھے سولہ روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ آئندہ جولائی میں بجلی کی فی یونٹ بنیادی قیمت میں مزید 2.80 روپے اضافے کے لیے کیبنٹ کمیٹی برائے توانائی کی منظوری مل چکی ہے۔ بجلی سے ہٹ کر دیکھیں تو بھی مہنگائی کے سائے وسیع و عریض نظر آتے ہیں۔ ابھی کل ہی شماریات بیورو کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران زندہ مرغی اوسطاً 11 روپے 49 پیسے مہنگی ہوکر 214 روپے 88 پیسے فی کلو ہوگئی، اور گھی کی قیمت میں تین روپے 52 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد گھی کی اوسط قیمت 404 روپے 85 پیسے فی کلو ہوگئی۔ یہاں تک کہ اس ایک ہفتے کے دوران نمک کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کیسے نہ ہو جب نمک کھودنے اور ڈھونے کے مصارف میں اضافہ ہوگا تو قیمتیں بھی بڑھیں گی، مگر خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ ناقابل فہم ہے۔ حکومت اپنی دانست میں اشیائے ضروریہ اور توانائی پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا کر محصولات میں اضافہ کرکے ملک کو ترقی کی جانب لے کر جارہی ہے مگر فی الواقع یہ ترقیٔ معکوس ہے۔ سستی توانائی ملک میں ترقی کا محرک بنتی ہے مگر ہمارے ہاں توانائی کو مہنگا کرکے ترقی کی خواہش کی جاتی ہے، جبکہ مہنگی اور نایاب توانائی ہمارے ملک میں صنعتکاری کے فروغ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت ایک جانب توانائی پر بھاری ٹیکس لگا کر اسے ناقابل برداشت حد تک مہنگا کرتی ہے اور جب یہ توانائی صنعتی شعبے کے لیے قابل عمل نہیں رہتی تو صنعتوں کو سبسڈی دینا پڑتی ہے۔ یوں مخصوص صنعتی شعبے تو مہنگی توانائی کے اثرات کو کسی حد تک نیوٹرلائز کرلیتے ہیں مگر گھریلو شعبے سمیت وہ بہت سی صنعتیں جنہیں حکومت کسی رو رعایت کے لائق نہیں سمجھتی، ان کے لیے حالات ناگفتہ بہ ہوتے جاتے ہیں۔ ہم درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار رکھتے ہیں؛ چنانچہ عالمی سطح پر توانائی کے نرخوں کے ساتھ بندھے ہیں۔ وہاں جب اضافہ ہوتا ہے تو ہماری توانائی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ توانائی کی قیمتوں پر ٹیکسوں کا غیرمعمولی بوجھ ہے۔ اس سلسلے میں جنرل سیلز ٹیکس اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ذکر بطور خاص ہوتا ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شامل چھ مختلف قسم کے واجبات میں سب سے زیادہ شرح حکومت نے اپنے ٹیکسوں کی رکھی ہے۔ اسی طرح بجلی کی قیمت پر عائد ٹیکس وغیرہ شامل کیے جائیں تو یہ تقریباً بجلی کی قیمت کے برابر ہی بن جاتے ہیں۔ درست کہ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس چاہئیں اور کوئی ملک اس کے بغیر نہیں چل سکتا مگر ہمارے ہاں ٹیکس کے نظام کی کمزوریوں اور خرابیوں کا بوجھ بھی انہی شعبوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی ٹیکسوں سے چُور ہیں۔ تیل، گیس، بجلی اور اشیائے ضروریہ اس سلسلے میں پہلا ہدف بنتی ہیں اور
ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرکے عوام کو نچوڑ کر حکومت خود کو کارکردگی پر مبارک باد دیتی ہے۔ معیشت کا وسیع منظر نامہ بدستور جوں کا توں رہتا ہے جبکہ حکومت اور اس کے ریونیو اداروں کی سپاٹ لائٹیں عوام اور ان کی ضرورت کی اشیا پر مرکوز رہتی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ تو حکومتی ترجیحات میں شامل ہے مگر توانائی کے شعبے کے مسائل کو دیکھے تو حکومت ان سے یکسر لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔ بجلی، گیس اور تیل ہر شعبے کے مسائل الگ الگ ہیں اور ان کے حل کی جامع پالیسی نظر نہیں آتی۔ بجلی کے شعبے میں بنیادی مسئلہ لائن لاسز کا ہے۔ ہمارا شمار ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں لائن لاسز سب سے زیادہ ہیں۔ یہ وہ بجلی ہے جو سسٹم میں شامل تو کی جاتی ہے مگر اس کا بل وصول نہیں ہوتا۔ یہ مناسب حد تک ہو تو اسے نارمل سمجھا جاسکتا ہے مگر ہمارے ہاں بجلی کی بعض تقسیم کار کمپنیوں میں لائن لاسز 38 سے 40 تک ہیں۔ یہ بجلی سرکلر ڈیبٹ میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور اس کا بوجھ بالآخر انہی صارفین پر پڑتا ہے جو بل ادا کررہے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اس نہایت ضروری کام کو حکومتیں معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتی ہیں لیکن یہ خودبخود تو حل نہیں ہوگا، اس کے لیے کسی کو تو ذمہ داری سے کام کرنا پڑے گا۔ یہ کب ہوگا، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ ٹرانسمیشن کے نظام کے نقائص بھی بجلی کے سسٹم کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل ہیں اور بجلی کے زیاں کا ایک بڑا سبب۔ ماضی قریب میں نئے پیداواری یونٹ لگانا حکومت کی ترجیح تھی تاکہ طلب پوری کی جاسکے اور اب جبکہ پیداواری صلاحیت ملکی ضرورت کی کفایت کرنے کے قابل ہے تو یہ سمجھ آئی ہے کہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک اتنی پیداواری مقدار کو نہیں سنبھال سکتا۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اووربلنگ کی عادت اس شعبے کا ایک نیا مسئلہ بن کر سامنے آئے ہے اور حالیہ کچھ عرصے میں زائد بلنگ کا مسئلہ وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں صرف شدہ یونٹوں سے زیادہ کا بل بھیج کر نہ صرف صارفین سے زیادہ پیسے بٹورتی ہیں بلکہ انہیں بتدریج مہنگے سلیب میں دھکیل کر مزید مہنگی بجلی بیچتی ہیں۔ اس سلسلے میں صارفین کے حقوق کی پاسداری کہیں نظر نہیں آتی۔ لوگ بیچارے بل درست کرانے دَر دَر کی ٹھوکریں کھاتے اور رسوا ہوتے ہیں۔ عوام کے ان مسائل سے حکومتی لاپروائی کے سیاسی مضمرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کا تعین، تخفیفِ غربت کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے ’2023ء میں ہوگا‘ مگر سوال یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کو حکومتی منصوبوں میں ایسا کیا ہے کہ ان کے فیوض و برکات کا اظہار آخری برس ہی میں جا کر ہوگا، اس سے پہلے کیوں نہیں؟ وزیراعظم غربت کے خاتمے کے چینی ماڈل سے متاثر ہیں۔ اس کا ذکر وہ متعدد مرتبہ کرچکے ہیں؛ تاہم چینی طریقے کے مطابق ہمارے ہاں کام ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ چین نے صنعتی ترقی، ہنرمندی کے فروغ اور چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو ترقی دے کر غربت کے خاتمے کا محیرالعقول کارنامہ سرانجام دیا مگر وطن عزیز میں بھی اس سلسلے میں نہ ہونے کے برابر پیش رفت نظر آتی ہے اور اگلے برس تک ان میں کوئی انقلابی تبدیلی رونما ہونا کسی لحاظ سے بھی ممکن نہیں۔ غربت کا خاتمہ راتوں رات ہونے والا کام نہیں، اس کے لیے مرحلہ وار پیش رفت ہوتی ہے، لوگوں کی آمدنی بڑھتی اور بتدریج آباد خط افلاس سے اوپر اٹھتی ہے، مگر ہمارے ہاں منصوبوں میں ایسا کچھ بھی زیر عمل نہیں جو آنے والے ایک یا چند ایک برسوں میں معاشی کایا پلٹ دینے کا سبب بن سکتا ہو۔ ہم سی پیک سے امیدیں لگاسکتے ہیں مگر اس پراجیکٹ کے معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کا سبب بننے والے منصوبوں کی رفتار محل نظر ہے۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے، مگر انڈسٹریل زونز کی تکمیل اور صنعتوں کا قیام ایک طویل عمل ہے۔ صنعتکاری کے اس خواب کی تکمیل سے پہلے ہمیں اپنے بہت سے مسائل کا حل خود تلاش کرنا ہے تاکہ ہماری سرزمین صنعتکاری کے لیے پرکشش ثابت ہوسکے۔