منڈی بہاؤالدین: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنا ہماری بڑی غلطی تھی، شریف خاندان کیلئے پیغام ہے کہ کپتان ان کے ہر پلان کیلئے تیار ہے، آپ کو ناصرف شکست ہو گی بلکہ آپ سب جیل بھی جائیں گے، فضل الرحمن 12 واں کھلاڑی بنے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق منڈی بہاؤالدین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ 30 برس بعد پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر سولر پر چل رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن 12 واں کھلاڑی بنے ہوئے ہیں اور ہر ماہ کہتے ہیں کہ حکومت گرا دیں گے، وہ کیوں سب کو اکٹھا کر کے کہتے ہیں کہ حکومت گرا دو؟ مولانا فضل الرحمن سمیت یہ سب چو ر اور ڈاکو ڈرے ہوئے ہیں۔
انہوں نے شریف خاندان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں مانتا ہوں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دے کر غلطی کی۔ ایک بڑا بھگوڑا باہر بھاگا ہوا ہے اور دوسری طرف چھوٹا میاں ہے جس کا دل بہت کمزور ہے۔ چھوٹے میاں کو پتہ چل گیا کہ مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 375 کروڑ کیسے آیا اور پھر انہوں نے اپنے بیٹے کو راتوں رات باہر بھگا دیا، شاہد خاقان عباسی جب وزیراعظم تھا اس نے اپنے جہاز سے اسحاق ڈار کو باہر بھگا دیا، شہباز شریف کو پتہ ہے کہ ان کا کیس چلا تو انہوں نے نہیں بچنا، اگر شہباز شریف بے قصور ہیں تو وہ کیوں عدالت سے بھاگ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے جسٹس قیوم کو فون کر کے کہا تھا کہ تین سال نہیں پانچ سال قید کی سزا دیں جبکہ مریم نواز شریف کہتی ہیں کہ میرے پاس ٹیپیں ہیں، کیس سے بچنے کیلئے ایک سابق جج کی ٹیپ بنائی گی، بریف کیس چلے، کوئٹہ کے بنچ کو خریدا گیا یہ کسی کو یاد نہیں، کبھی آپ نے سنا کہ سیاستدان ٹیپیں رکھتے ہیں اور ججز کو بلیک میل کرتے ہیں، مگر آج عدالتیں آزاد ہیں اور کوئی ڈنڈوں سے ان پر حملہ نہیں کرتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کیلئے پیغام ہے کہ کپتان ان کے ہر پلان کیلئے تیار ہے، آپ کو ناصرف شکست ہو گی بلکہ آپ سب جیل بھی جائیں گے۔ عمران خان انہیں چور اور ڈاکو نہیں کہتا بلکہ یہ 20 سال سے ایک دوسرے کو کہتے تھے، ان پر مقدمات پرانے ہیں مگر این آر او مجھ سے مانگ رہے ہیں لیکن عمران خان مشرف کی طرح این آر او نہیں دے گا اور میں جب تک زندہ ہوں، ان کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی، امریکہ، یورپ، جرمنی، ترکی اور دیگر ممالک میں کئی کئی دہائیوں بعد مہنگائی بلند ترین سطح پر ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم جو اشیا باہر سے منگواتے ہیں وہ دگنی سے زیادہ مہنگی ہوگئی ہیں، ہمیں مہنگائی میں اضافے اور عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور ہماری کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح مہنگائی کم کریں۔