Get Alerts

سانحہ گل پلازہ: "بجلی بند نہ ہوتی تو جانیں بچائی جا سکتی تھیں "، چیف فائر آفیسر کا انکشاف

سانحہ گل پلازہ:

کراچی: سانحہ گل پلازہ پر قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے چیف فائر آفیسر اور ڈی جی ریسکیو نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ دورانِ سماعت بتایا گیا کہ اگر آگ لگنے کے وقت عمارت کی بجلی بند نہ ہوتی اور ہنگامی اخراج کا اعلان کر دیا جاتا تو کئی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
 عمارت میں قدرتی روشنی کا انتظام نہ ہونے اور بجلی منقطع ہونے سے دم گھٹنے اور راستہ نہ ملنے کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔درجہ حرارت 1000 ڈگری سے زائد تھا، جبکہ کھڑکیاں اور راستے لوہے کی گرل لگا کر بند کیے گئے تھے جنہیں کاٹ کر لاشیں نکالی گئیں۔شہر میں فائر ہائیڈرنٹس فعال نہ ہونے کے باعث واٹر ٹینکرز کا انتظار کرنا پڑا، جس سے آپریشن میں تاخیر ہوئی۔
دکاندار سامان نکالنے میں مصروف رہے اور اے سی ڈکٹ کے ذریعے آگ تیزی سے اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں کمیشن نے فائر فائٹرز کی تربیت اور شہر میں آگ بجھانے کے ناقص نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ٹیگز: