اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی صارفین کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ملک بھر میں 16 لاکھ سمارٹ میٹر نصب کر دیے گئے ہیں۔ نئی ایپلی کیشن "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ" کے ذریعے صارفین اب اپنے میٹر کی ریڈنگ خود کر سکیں گے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ 40 ارب روپے کی اووربلنگ کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا گیا اور بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات عام صارف پر منتقل نہیں کیے جاتے۔ آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، اور دسمبر 2025 میں بجلی کی قومی قیمت 42.27 روپے فی یونٹ رہی جبکہ مارچ 2024 میں یہ 53.04 روپے فی یونٹ تھی۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت نے میرٹ پر فیصلے کر کے مستقبل کے 8 ہزار میگاواٹ مہنگے منصوبے منسوخ کیے، جس سے ملک کو 17 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اصلاحات سے گردشی قرض میں کمی آئی ہے اور عوام پر 400 ارب روپے کے اضافی بوجھ میں کمی متوقع ہے۔
انہوں نے نیپرا کی رپورٹ پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ اگست 2025 میں جاری ہونی چاہیے تھی، مگر ناکافی اعداد و شمار کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور رپورٹ پاور سیکٹر کے درست منظر نامے کو پیش کرنے میں ناکام رہی۔ اویس لغاری نے یقین دلایا کہ 5 سے 6 سال میں گردشی قرض کی مکمل ادائیگی ممکن ہے اور غیر ضروری بجلی کے 17 ارب ڈالر کے بوجھ کو ختم کر دیا گیا ہے۔