کوٹلی :آزاد جموں و کشمیر کی حکومت 2025-26 کے مالی سال کے لیے 310 ارب 20 کروڑ روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ یہ بجٹ آج وزیر خزانہ عبد الماجد خان خصوصی اجلاس میں اسمبلی کے سامنے پیش کریں گے۔
نئے بجٹ کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے اور اس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 49 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 261 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اضافہ 86 ارب 20 کروڑ روپے کا ہے، جو آزاد کشمیر کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
صحت کے شعبے میں خاص توجہ دی گئی ہے اور صحت کارڈ سکیم کی بحالی کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ علاوہ ازیں سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کا اضافی بندوبست کیا گیا ہے۔
حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی رکھی ہے۔ تعلیم کے شعبے کے لیے 3 ارب روپے اور پن بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 75 ارب روپے کے محصولات کا ہدف مقرر کیا تھا، جس میں سے 69 ارب روپے حاصل کیے جا چکے ہیں، جسے مالیاتی نظم و ضبط کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے بجٹ میں ترقیاتی فنڈز میں توازن، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ عوام دوست اور فلاحی منصوبوں کا عکاس ہے، جس کے فوائد براہ راست عوام تک پہنچیں گے۔