مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے مالی سال 26-2025 کے لیے 310 ارب 20 کروڑ روپے کا ٹیکس فری بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کر دیا۔ نئے بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت 86 ارب 20 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق، غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 261 ارب روپے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 49 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر مرکوز ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ صحت کارڈ اسکیم کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور نئے ادارے قائم کرنے کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 60 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ،تمام سرکاری محکموں میں بائیومیٹرک حاضری کا نظام نافذ کیا جا چکا ہے۔ عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے لیے 37 ارب 99 کروڑ روپے سے زائد کی فوڈ سبسڈی تجویز کی گئی ہے اور شعبہ رسل و رسائل کے لیے 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسمبلی اجلاس سے قبل اپوزیشن کا احتجاج
بجٹ اجلاس شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن اراکین نے اسمبلی ہال کے دروازے بند کر کے دھرنا دیا، جس کے باعث حکومتی ارکان ایوان میں داخل نہ ہو سکے اور اجلاس تاخیر کا شکار ہوا۔
وزیر خزانہ نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے اندر آ کر اپنی بات کریں اور احتجاج کا آئینی و پارلیمانی طریقہ اپنائیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے رویے کو غیر قانونی اور غیر جمہوری قرار دیا۔