ایران پر اسلحے کی خرید وفروخت پر طویل عرصے سے عائد پابندی ختم

ایران پر اسلحے کی خرید وفروخت پر طویل عرصے سے عائد پابندی ختم

تہران: 2015ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاہدہ ہوا تھا، جس کی شرائط کے تحت اتوار 18 اکتوبر سے ایران کو اسلحے کی فروخت پرعائد پابندی بتدریج ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہی اس پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج اسلحے کی منتقلی، متعلقہ سرگرمیوں اور ایران کے لیے اور اس کی جانب سے مالی خدمات پر عائد پابندیاں خود بخود ختم ہو گئی ہیں۔ اب ایران صرف دفاعی ضروریات کی بنیاد پر، کسی قانونی پابندی کے بغیر، کسی بھی ذریعے سے کوئی بھی ضروری اسلحہ اور متعلقہ سامان خرید سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ان کے ملک پر اسلحہ کے حصول اور فروخت پر پابندی ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد ایران کسی بھی ملک سے کسی بھی وقت اسلحہ خرید بھی سکتا ہے اور اپنے ہاں تیار کردہ جنگی ہتھیار فروخت بھی کر سکتا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب ایران کی معیشت بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نچلی ترین سطح‌پر ہے۔ افراط زر نے معیشت کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکا، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کی شرائط کے تحت طے پایا تھا کہ ہتھیاروں اور سفر پر پابندی خود بخود ختم ہو جائیں گی اور اس سلسلے میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حال ہی میں ایرانی میڈیا میں عسکری مشیر حسین دھقان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں‌نے ایران کو درکار ہتھیاروں کی ایک فہرست ماسکو کے دورے کے دوران روسی حکام کے سامنے پیش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فہرست میں آبدوز شکن میزائل، خشکی اور پانی پر چلنے والے جہاز، 'سوخوی 35' طرز کے لڑاکا طیارے اور T-90 ماڈل کے ٹینک شامل ہیں۔

دوسری طرف ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے عاید کردہ معاشی پابندیوں سے وہ دنیا کےدوسرے ملکوں سے تجارت کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان پابندیوں‌کے نتیجے میں ہم ادویات تک آزادی کے ساتھ حاصل نہیں کر پاتے حالانکہ ادویات او ربنیادی انسانی ضروریات کی اشیا کے حصول پر پابندی عائد نہیں ہے۔