لاہور : پنجاب کے بیشتر سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی بتدریج کم ہونا شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگے ہیں، تاہم کئی اضلاع میں تباہی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور بعض جگہوں پر چار سے پانچ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔ متاثرہ افراد حکومت سے فوری امداد کے منتظر ہیں تاکہ نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔
دوسری طرف سندھ کے مختلف بیراجوں پر پانی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سکھر بیراج پر ابھی بھی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے مگر حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں کمی کا امکان ہے۔ کوٹری بیراج کی جانب بڑھتے ہوئے سیلابی ریلے کی وجہ سے روہڑی میں دریا کنارے قائم ڈی ایس پی آفس زیرِ آب آ گیا ہے اور اس دفتر کا سارا ریکارڈ دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
نوشہرو فیروز میں کئی زمینداری بند ٹوٹ گئے ہیں جبکہ تحصیل مورو کے پانچ دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ گاؤں غلام نبی بروہی میں کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی سطح میں کمی کے باوجود کچے کے علاقوں میں پانی کا دباؤ برقرار ہے جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
لاڑکانہ میں عاقل آگانی لوپ بند پر سیلابی ریلا پہنچ چکا ہے، لیکن کچے کے لوگ اب بھی علاقے کو چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔ دادو کے میہڑ کے نزدیک کچے کے علاقوں میں زمینی بندوں کے ٹوٹنے سے کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
کندھ کوٹ میں سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ کر 80 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی بھی معطل ہو گئی ہے۔
سجاول کے سیلاب متاثرین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں لوگ نہ صرف اپنے گھر بار سے محروم ہیں بلکہ اب بھوک، پیاس اور وبائی امراض کے خطرات کے ساتھ بھی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔