کیلیفورنیا : سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل تیار کیا ہے جو مریض کی طبی تاریخ کی بنیاد پر ہزاروں بیماریوں کے امکانات برسوں پہلے بتا سکتا ہے۔
برطانیہ، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق نیچر جرنل میں شائع ہوئی ہے، جس میں اس ماڈل کو "ڈلفی۔2M" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ماڈل برطانیہ کے "یوکے بایو بینک" کے وسیع ڈیٹا پر تربیت پایا ہے اور نیورل نیٹ ورکس اور ٹرانسفارمر ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو چیٹ جی پی ٹی جیسی زبان سمجھنے والی ٹیکنالوجی کے برابر ہے۔
جرمنی کے کینسر ریسرچ مرکز کے ماہر مورٹز گرسٹنگ کے مطابق، "ڈلفی۔2M مریضوں کی بیماریوں کے پیٹرنز کو سمجھتا ہے کہ کونسی بیماری کب اور کیسے ظاہر ہوتی ہے، جس سے بیماریوں کی بہتر اور بروقت پیش گوئی ممکن ہوتی ہے۔"
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ AI ماڈل مستقبل میں میڈیکل شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، کیونکہ ڈاکٹرز اس کی مدد سے ممکنہ بیماریوں کا قبل از وقت اندازہ لگا کر بروقت علاج یا حفاظتی اقدامات کر سکیں گے۔
یہ ماڈل صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کا ایک نمایاں ثبوت ہے۔