Get Alerts

سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج

سینیٹ میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج

اسلام آباد: سینیٹ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا، تاہم اپوزیشن نے بل کو آئین، بنیادی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر نے کی، جہاں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل پیش کیا۔ بل کی مخالفت میں اپوزیشن ارکان، خصوصاً سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ترامیم تجویز کیں اور بل کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجنے کی سفارش کی، تاہم ان کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے بل کو "انصاف کے تقاضوں اور اسلامی تعلیمات" کے خلاف قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسا قانون سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بل صرف دہشت گردی کی تعریف تک محدود رکھا جائے اور جلد بازی سے قانون سازی سے گریز کیا جائے۔

اس کے جواب میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور نوجوانوں کو بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزم کو وکیل کرنے کا حق حاصل رہے گا، جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فوج طلب کرنے کا اختیار بھی قانون میں شامل ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے ہمیں یہ قانون منظور کرنا ہوگا، جبکہ ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری نے دہشت گردی کے پھیلاؤ کی وجہ کمزور فیصلوں اور سمجھوتوں کو قرار دیا۔

بحث کے بعد انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2025 کو اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔

ٹیگز: