اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 کو منظوری دے دی ہے، جو ملک میں دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اداروں کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس قانون میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور اس میں تین سالہ سن سیٹ کلاز شامل کی گئی ہے تاکہ قانون کی مدت محدود ہو۔
اس قانون میں عدالتی نگرانی اور حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں، جو پاکستان کو موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔
اسی طرح، صدر نے پٹرولیم ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دی ہے، جس کا مقصد سمگلنگ اور غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائیاں مضبوط بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور کسٹمز حکام کو ضبطگی کے اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی بیسڈ ٹریکنگ کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے۔
پٹرولیم ترمیمی بل میں خلاف ورزیوں پر سخت سزاؤں اور جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جو اس شعبے میں شفافیت اور بہتر ریگولیشن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس قانون سے سمگلنگ اور ٹیکس چوری کے خلاف سرکاری اقدامات مزید مؤثر ہو جائیں گے۔