پشاور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے کوہستان کے 40 ارب روپے کے مالیاتی کرپشن سکینڈل میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر سمیت 8 اہم ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں دو سرکاری افسر، دو بینکرز اور چار ٹھیکیدار شامل ہیں جن پر جعلی چیکوں کی منظوری، مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات ہیں۔
ملزمان نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G-10113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکز جاری کیے اور بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی خردبرد کی۔ نیب کی تحقیقات کے دوران 73 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں جن سے 5 ارب روپے کی نقدی، غیر ملکی کرنسی اور 3 کلوگرام سونا برآمد ہوا۔
مزید برآں، 77 لگژری گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں جن میں مرسیڈیز، بی ایم ڈبلیو، آؤڈی، پورشہ، لیکسز، لینڈ کروزر اور فارچونر شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت 94 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ضبط کی گئی جائیدادوں کی تعداد 109 ہے جن کی کل مالیت 17 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں رہائشی مکانات، فلیٹس، کمرشل پلازے، فارم ہاؤسز اور زرعی اراضی شامل ہیں۔
نیب خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یہ کرپشن سکینڈل اعلیٰ سطح پر عوامی وسائل کے غیر شفاف استعمال اور مالی بے قاعدگیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزید گرفتاریوں کے لیے بھی تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔