تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی جارحیت کا ڈٹ کر اور فخر سے مقابلہ کرے گا، مگر اس کی تمام کارروائیاں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ دشمن کو اپنی سنگین غلطیوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔
عباس عراقچی نے امریکی اور اسرائیلی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نہ تو جوہری ہتھیاروں کے قریب پہنچا ہے اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی، اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی منصوبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران واقعی ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا تو موجودہ حالات ' جب خطے کی واحد ایٹمی ریاست ایران پر کھلی جارحیت کر رہی ہے ' اس کے لیے سب سے موزوں وقت ہوتا۔ لیکن ایران نے اس کے باوجود ایٹمی ہتھیار کی طرف قدم نہیں بڑھایا۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ تہران صرف اپنے دفاع میں اقدامات کر رہا ہے کیونکہ ملک کو سنگین جارحیت کا سامنا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کی طرف سے تنازع کو مزید بڑھانے کی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔