شکریہ پنجاب پولیس

شکریہ پنجاب پولیس

یہ ملک کی سیاسی تاریخ کو پس منظر میں رکھتے ہوئے ایک عمومی احساس تھا کہ پولیس کو عمران خان کے گھر نہیں جانا چاہئے تھا مگر یہ احساس زیادہ دیر تک حاوی نہیں رہ سکا کیونکہ باقی احساسات اس سے زیادہ منطقی اور جاندار تھے کہ عمران خان کو پختونوں کے جتھوں کو اپنی حفاظت کے لئے پنجاب نہیں بلانا چاہئے تھا۔ ان مورچہ بند دہشت گردوں کو پولیس اور رینجرز پر پٹرول بموں سے حملے نہیں کرنے چاہئے تھے۔ بدمعاشی پر آمادہ جتھوں کو ڈنڈے نہیں اٹھانے نہیں چاہئے تھے، گالیاں نہیں بکنی چاہئے تھیں۔ لاہور کی مصروف ترین سڑک اورایک پوش علاقے کو نوگو ایریا نہیں بنانا چاہئے تھا۔ اگر ہم عمران خان کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لئے آنے والی پولیس پر حملوں کافلسفہ اور جواز تسلیم کرلیتے ہیں تو پھر کل کلاں ہر کسی کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کا اختیار ہو گا۔ ہمارے ہاں انصاف اور قانون کی صورتحال پہلے ہی دگرگوں ہے، عمران خانیت نافذ ہونے کے بعد تو تباہی ہی تباہی ہے۔
مجھے سچ بولنے دیجئے، سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی منطقی اور غیر جانبدار شخص جو اس سے پہلے صرف عمران خان کے فلسفے سے اختلاف کی وجہ سے غلیظ ترین گالیوں کانشانہ بن چکا ہے وہ اس شخص اور گروہ کی حمایت نہیں کرسکتا اگر اس کے اندر رتی برابر بھی شرم، غیرت اور حمیت باقی ہے۔ دانشور ہو، تجزیہ کار ہو یا صحافی وہ بھی انسان ہوتا ہے اور وہ عمران خان سے اختلاف بھی کرسکتا ہے مگراس اختلاف کی قیمت بھی وہی ہے جو زمان پارک میں پولیس کو ادا کرنی پڑی۔ سوشل میڈیا پر عمران خانیت کو مسترد کرتے ہی ٹرولز کے گروہ حملہ آور ہوتے ہیں جو گالیاں دیتے ہوئے کسی محرم اور مقدس رشتے تک کا لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے چند روز پہلے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کو اپنی پریس کانفرنس میں یہی شکوہ کرتے ہوئے سنا اوراس کے بعد آئی جی پنجاب پولیس کوبھی۔ سچ تو یہ ہے کہ واٹس ایپ گروپوں سے بھیجے گئے یہ فیک اکاؤنٹ ہولڈرز کے گروہ اختلاف کو گروہی بلکہ ذاتی دشمنی میں بدل دیتے ہیں۔
سچ تو یہ بھی ہے کہ عمران خان پختونوں کے جتھوں کو پنجاب کی سڑکوں پر لا کے،ان سے ہنگامے کروا کے، آگ سے کھیل رہے تھے۔ یہ لوگ خود کو عمران خان کے فدائی ظاہر کرتے تھے جبکہ علی امین گنڈا پور کی لیکڈ فون کالز بتاتی ہیں کہ یہ سب کرائے کے بدمعاش تھے جنہیں یہاں صرف اور صرف غنڈہ گردی کے لئے سمگل کیا جارہا تھا۔ انہوں نے کینال روڈ کو ہی نوگو ایریا نہیں بنایا ہوا تھا بلکہ زمان پارک کو بھی علاقہ غیر ڈیکلیئر کیا ہوا تھا۔ میں یہ سوال دل اور دماغ رکھنے والے پاکستانیوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پختونوں کے ٹولوں نے لاہور میں پٹرول بم پھینکے اور مزاحمت کی کیا اسی طرح کی مزاحمت اگر پنجابی پشاور، چارسدہ یا بنوں کی سڑکوں پر جا کر کریں، وہاں کی پولیس کوماریں، وجہ چاہے جو بھی ہو، اس کاکیا مطلب لیا جائے گا۔ لاہور والوں کو دل بہت بڑا ہے۔ ا س سے پہلے لاہور کے بازار پختون تاجروں سے بھرے ہوئے ہیں حالانکہ اس روزگار پر پنجابیوں اور لاہوریوں کاپہلا حق ہے مگر بڑے دل کے لاہوریوں کی طرف سے کوئی شکوہ شکایت تک نہیں ہے۔ پختون لیڈروں کوسوچنا چاہئے کہ وہ اپنے کچھ بدمعاشوں کو اپنے محسنوں کے ساتھ اس غنڈہ گردی سے کیسے روک سکتے ہیں۔ یہ بدمعاشیاں صوبوں کے درمیان منافرت پیدا کر سکتی ہیں۔
سچ تو یہ بھی ہے کہ زمان پارک میں بہت سارے شرفا رہتے ہیں اور ان میں عمران خان کے رشتے دار بھی شامل ہیں مگر واقفان حال بتاتے ہیں کہ ان کے عمران خان کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ خراب ہیں۔ میں نے پی ٹی آئی کی عشروں سے کوریج کرنے والے سینئر صحافی کاشف سلیمان سے پوچھا کہ اگر عمران خان اپنے کسی رشتے دار کے گھر جا کے چھپ جائیں تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ خود انہیں پکڑوا دیں گے جیسے سعید نیازی۔ میں نے پوچھا کہ عمران خان نے زمان پارک میں اپنی وزارت عظمیٰ میں نیا گھر بنوایا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس گھر سے کوئی سرنگ کسی رشتے دار کے گھر میں نکلتی ہو تو کاشف سلیمان کا مکمل یقین کے ساتھ جواب تھا کہ اگر کوئی سرنگ نکلتی ہوئی تو وہ کسی رشتے دار کے گھر نہیں نکلتی ہو گی بلکہ اعتزاز احسن کے گھر یا دفتر ضرور نکل سکتی ہے۔ جب پولیس نے وہاں آپریشن مکمل کر لیا تو ہمارے کچھ صحافیوں نے اہل علاقہ سے بات کی تو خواتین اس آپریشن پر پولیس کو شاباش دیتی نظرآئیں، پولیس کا شکریہ ادا کرتی نظرآئیں۔ عمران خان یہ کہہ رہے تھے کہ زمان پارک کے گھر میں صرف ان کی اہلیہ ہیں مگر اسی گھر سے پولیس پر فائرنگ ہورہی تھی اور وہاں سے اسلحہ کے ساتھ ساتھ مزاحمت کے لئے بنٹوں (ماربلز) کی بوریاں بھی پکڑی جا رہی تھیں۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جو لوگ وہاں سے پکڑے گئے ہمیں پہلی نظر میں ہمیں خطرہ محسوس ہوا کہ ان کے پاس خود کش جیکٹیں بھی ہوں گی۔ یہی خوفناک لوگ تھے جن سے جان چھوٹنے کے بعد زمان پارک کی پڑھی لکھی خواتین باہر نکل کر نگران حکومت اورپنجاب پولیس کا شکریہ ادا کررہی تھیں۔
سچ تو یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں حکومت اورپولیس سے معاہدہ کرتے ہوئے سرچ آپریشن کی خود اجازت دی تھی جس کے بعد باقاعدہ طور پر سرچ وارنٹ لے کر آپریشن کیا گیا تھا۔ اس اجازت کے بعد پی ٹی آئی نے وہاں سے اسلحہ، حملے کے لئے مورچے ختم اور کالعدم تنظیموں کے لوگ غائب نہیں کئے تو یہ اس کی اپنی سستی اور نااہلی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن اس وقت ہونا چاہئے تھا جب عمران خان گھر پر ہوتے۔ یہ مؤقف جذباتی طور پر تو درست ہو سکتا ہے مگر حکمت عملی کے طور پر نہیں۔ پولیس ہمیشہ ایکشن کے لئے اس وقت کا انتخاب کرتی ہے جس میں مزاحمت او رجانیں جانے کا اندیشہ کم سے کم ہو۔ جب عمران خان اپنے ملک سے بلائے ہوئے جنگجووں کو اپنی حفاظت کے لئے اپنے ساتھ لے کر اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تویہی بہترین وقت تھا کہ سرچ آپریشن کیا جائے۔ اتنظامیہ اور پولیس جب تجاوزات کے خلاف بھی آپریشن کرتی ہے تو زیادہ تر رات گئے یا صبح سویرے فجر کے وقت ہوتا ہے۔ 
سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کی پوری کی پوری سیاسی حکمت عملی تضادات سے بھرپور تھی۔یہ واضح ہوچکا کہ پولیس انہیں گرفتار کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ جب انہیں علم تھا کہ آخر کار انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا ہی پڑے گا تو انہیں اس قسم کی مزاحمت کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ یہ محاورے والی صورتحال تھی کہ اب انہیں اسلام آباد پہنچنا تھا اور وہ پہنچے یعنی انہیں پیاز بھی کھانے تھے اور انہوں نے کھائے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ عمران خان کے نادان مشیر ان سے مسلسل غلط فیصلے کروائے چلے جار ہے ہیں۔ وہ انہیں بند گلی میں پہنچا رہے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ ان سے پہلے پیپلزپارٹی اور نواز لیگ بھی اس پتھر کو چاٹ کے واپس آ چکی ہیں۔عمران خان اس پتھر کو آخری دم تک کیوں چاٹنا چاہتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ابھی ’دوسروں‘ نے کچھ نہیں کیا، صرف پنجاب پولیس نے عمران خان کو سبق سکھا دیا ہے، راہ دکھا دی ہے۔