دوحہ، قطر: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پاگیا ہے جس پر دونوں ممالک نے دوحہ میں مذاکرات کے دوران اتفاق کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے، اور پاکستان کی سرزمین پر افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ فوراً بند ہوگا۔
قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے اس مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی۔ مذاکرات تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہے، جس کے دوران دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور آئندہ ملاقاتوں کا فیصلہ کیا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق، جنگ بندی کا یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا، اور امید ہے کہ اس سے سرحدی کشیدگی کا خاتمہ ہوگا۔
خواجہ آصف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے قطر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ ملاقات ہوگی جس میں دیگر معاملات پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔
اس معاہدے کے بعد سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے یہ پیش رفت مایوس کن ہو سکتی ہے کیونکہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو ایک بڑا دھچکا لگے گا۔
قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوا، جس میں پاکستانی سکیورٹی حکام نے وزیر دفاع کی معاونت کی۔ افغانستان کی جانب سے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور انٹیلی جنس حکام نے اس بات چیت میں شرکت کی۔