Get Alerts

کیا سیلاب سے متاثرہ مکانات رہائش کے قابل ہیں ؟ 

کیا سیلاب سے متاثرہ مکانات رہائش کے قابل ہیں ؟ 

تحریر : وجیہہ تمثیل 

سیلاب ایک قدرتی آفت ہے جو انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستان میں مون سون کے دوران اکثر شدید بارشیں اور دریاؤں میں طغیانی آنے کے باعث لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان گھروں کو ہوتا ہے جو یا تو مکمل تباہ ہو جاتے ہیں یا اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ رہائش کے قابل نہیں رہتے۔ اس تناظر میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کیا سیلاب سے متاثرہ گھر دوبارہ رہائش کے قابل ہو سکتے ہیں؟


سیلاب کے بعد سب سے پہلا قدم متاثرہ گھروں کی ساختیاتی جانچ ہے۔ اگر گھر کی بنیادیں مضبوط ہیں اور دیواریں صرف سطحی طور پر متاثر ہوئی ہیں، تو انہیں دوبارہ مرمت کر کے رہائش کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر بنیادیں کھوکھلی ہو گئی ہوں یا مٹی کے کٹاؤ کے باعث زمین کھسک گئی ہو تو ایسے گھروں میں دوبارہ رہائش اختیار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

 انجینئرز اور ماہرین تعمیرات کا کردار یہاں بہت اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ہی یہ طے کر سکتے ہیں کہ گھر قابلِ مرمت ہے یا مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ گھروں کو سیلاب کے بعد صرف جزوی مرمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، چھت میں رساؤ کو درست کرنا، نمی سے متاثرہ دیواروں کو خشک کرنا یا فرش کی مرمت کرنا۔ اس کے علاوہ، پانی کی نکاسی کا بہتر نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں دوبارہ اسی طرح کے نقصانات سے بچا جا سکے۔

 حکومت اور فلاحی ادارے متاثرہ علاقوں میں عارضی شیلٹر فراہم کرتے ہیں، مگر طویل مدتی حل کے لیے مقامی لوگوں کو اپنے گھروں کی مرمت پر توجہ دینا پڑتی ہے۔

وہ گھر جو مکمل طور پر گر جاتے ہیں یا جن کی بنیادیں بیٹھ جاتی ہیں، انہیں دوبارہ کھڑا کرنا زیادہ مشکل اور مہنگا عمل ہے۔ ایسے گھروں میں مرمت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نئی تعمیر ہی واحد حل بن جاتا ہے۔ اس کے لیے جدید اور مضبوط تعمیراتی طریقے اپنانے کی ضرورت ہے، جیسے کنکریٹ بلاکس، سیمنٹ اور ایسی چھتیں جو پانی کی زیادہ مزاحمت کر سکیں۔ مزید برآں، متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ گھروں کو بلند سطح پر تعمیر کیا جائے تاکہ مستقبل کے سیلابی پانی سے محفوظ رہ سکیں۔
سیلاب سے متاثرہ گھروں کی بحالی کے دوران ماحولیاتی عوامل پر بھی غور ضروری ہے۔ اگر کسی علاقے میں بار بار سیلاب آتا ہے، تو وہاں مستقل رہائش کے بجائے متبادل جگہوں پر مکانات بنانا زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے علاقوں میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے بند، پشتے اور نکاسی کے نظام بہتر بنائے تاکہ عوام کو بار بار بے گھر نہ ہونا پڑے۔
سیلاب سے متاثرہ گھروں کی دوبارہ رہائش کے قابل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار ان کے نقصان کی شدت پر ہے۔ ہلکا پھلکا نقصان اٹھانے والے گھروں کو مرمت کے بعد بحال کیا جا سکتا ہے۔ مگر مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی نئی تعمیر ہی واحد راستہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعمیر نو کے دوران پائیدار اور محفوظ ڈھانچے تیار کیے جائیں تاکہ مستقبل میں لوگوں کو دوبارہ اسی کربناک صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سال 2025 سیلاب کے حوالے سے بہت سخت ثابت ہوا ہے جس کے نتیجے میں چار یا پانچ ہزار سے زاٸد مکانات کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

وجیہہ تمثیل مرزا پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجوٸشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
 
 

ٹیگز: