Get Alerts

شہریوں کی معلومات کے تحفظ کے لیے نیشنل سرٹ کی ڈیٹا پروٹیکشن گائیڈ لائنز جاری

شہریوں کی معلومات کے تحفظ کے لیے نیشنل سرٹ کی ڈیٹا پروٹیکشن گائیڈ لائنز جاری

اسلام آباد: قومی سائبر ایمرجنسی سروسز ریسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے شہریوں کی ذاتی معلومات کو سائبر خطرات سے بچانے کے لیے اداروں کے لیے ڈیٹا پروٹیکشن گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔

نیشنل سرٹ ایک وفاقی ادارہ ہے جو پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں، حساس معلومات اور اہم انفراسٹرکچر کو سائبر حملوں، دہشت گردی اور جاسوسی سے محفوظ بنانے کے لیے کام کرتا ہے۔ نئی ایڈوائزری ان تمام اداروں پر لاگو ہوگی جو شہریوں کی ذاتی شناختی معلومات (PII) کو جمع، پراسیس، اسٹور یا منتقل کرتے ہیں۔

گائیڈ لائنز میں فوری، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات شامل ہیں، جن میں ڈیٹا کو حساسیت کے اعتبار سے درجہ بندی کرنا، جدید انکرپشن اپنانا، ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کا استعمال اور پرانی معلومات کو محفوظ طریقے سے ختم کرنا شامل ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق متاثرہ اداروں میں بینک، ٹیلی کام اور انٹرنیٹ کمپنیاں، تجارتی و لاجسٹکس کمپنیاں، سرکاری محکمے، اسپتال، تعلیمی ادارے اور آؤٹ سورسڈ سروسز فراہم کرنے والے شامل ہیں۔

نیشنل سرٹ نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سسٹمز کا ازسرنو جائزہ لیں، سیکیورٹی پالیسیوں کو قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی 2021 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے مطابق ہم آہنگ کریں اور عملے کو سیکیورٹی تربیت فراہم کریں۔

ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ سائبر مجرم جدید ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں، سسٹمز کی غلط کنفیگریشن اور ڈیٹا ہینڈلنگ میں لاپرواہی عام ہے، جس کے باعث چوری، شناختی فراڈ، رازداری کی خلاف ورزی، آپریشنز میں خلل، عوامی اعتماد کی کمی اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

نیشنل سرٹ کے مطابق خطرناک عناصر میں سائبر کرمنلز، ریاستی سرپرستی یافتہ APT گروپس، ہیکٹیوسٹس اور اندرونی بدنیت افراد شامل ہیں، جو ذاتی مفاد یا نظریاتی بنیادوں پر ڈیٹا کو نشانہ بناتے ہیں۔

ادارے کے مطابق شہریوں کو بھی احتیاط برتنی چاہیے، غیر ضروری طور پر شناختی دستاویزات جمع نہ کرائیں، مضبوط پاس ورڈز استعمال کریں، ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو فعال رکھیں اور ذاتی معلومات کو بلاوجہ آن لائن شیئر کرنے سے گریز کریں۔

یاد رہے کہ مئی میں نیشنل سرٹ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے 18 کروڑ سے زائد انٹرنیٹ صارفین کے لاگ ان کریڈینشلز اور پاس ورڈز ایک عالمی ڈیٹا لیک میں چوری ہو چکے ہیں۔ اسی طرح مارچ 2024 میں نادرا ڈیٹا لیک کی تحقیقات کرنے والی JIT نے انکشاف کیا تھا کہ 2019 سے 2023 کے دوران تقریباً 27 لاکھ شہریوں کا ڈیٹا چوری ہوا۔
 
 

ٹیگز: