Get Alerts

سلیگری کوریڈور یا غزہ امن فورس ؟

سلیگری کوریڈور یا غزہ امن فورس ؟

تحریر:طارق وسیم

امریکی وزیر خارجہ کہتے ہیں   پاکستان  نے غزہ فورس کا حصہ بننے پرغور کرنے  کی  پیش کش کی ہے ،سفارتی زبان بہت دلچسپ ہوتی  ہے ،ہر لفظ اپنے اند معانی کا سمند ر نہیں تو چھوٹا موٹا ندی نالہ ضرور سمیٹے ہوتا ہے ۔ مارکو روبیو    کا کہنا ہے کہ پاکستان نے غور کرنے کی پیش کش کی ہے ،یعنی پہلا قدم پاکستان نے اٹھایا ہے ۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں  تو پاکستانی امن فوج اس سے قبل بھی  فلسطین کی سرحد پر اردن کی حدود میں تعینات رہ چکی   ہے ،یہ وہی فورس تھی جس کی کمانڈ بریگیڈیئر ضیاالحق        نے کی تھی ۔  اقوام متحدہ کی امن فوج میں   کارکردگی کے لحاظ سے پاکستانی فورس  سب سے آگے ہے جس کا ثبوت حال ہی  میں سوڈان میں تعینات بنگلہ دیشی افواج پر  ہونے والا حملہ ہے۔اس حملے میں اطلاعات کے مطابق  پچاس سے زائد بنگالی  فوجی دہشت گردوں کے نرغے میں تھے، آٹھ مارے جا چکے اور سات زخمی تھے، جب اقوام متحدہ کے بینر تلے پاکستانی ریپڈ رسپانس فورس ایکشن میں آئی ،بنگالی فوجیوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تلخیاں بہت بڑھ چکی ہے ، عثمان ہادی کے قتل کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکہ آمنے سامنے ہیں ۔ سلیگری کوریڈور میں موجود  چکنز نیک ریاستوں  اروناچل پردیش ،آسام ،منی پور ،میگھالے ،میزو رام ،ناگا لینڈ ،سکم اور تری پورہ میں بھارتی رٹ پہلے بھی نہیں تھی ، تاثر یہ ہےکہ بنگلہ دیش سے تعلقات بگاڑ کر مکمل ختم ہو سکتی ہے ۔بنگالی ان ریاستوں کے فطری  حلیف اور جیو لوجیکل پارٹنزہیں جبکہ بھارت ان پر زبر دستی قبضہ کیے بیٹھا ہے ۔اگر ڈھاکہ سلیگری  کوریڈور کا راستہ بند کردےاور  مغربی بنگال میں موجود اپنا اثر وروسوخ استعمال کرے تو  کوئی بعید نہیں کی مشرقی تیمور اور  سوڈان کے بعد بھارت کی چکنز نیک ریاستیں بھی آزاد ہو جائیں ۔
ماضی قریب میں ایسا ہو بھی چکا ہے ،روس سے درجن بھر ریاستیں علیحدہ ہوئیں ،بلغاریہ اور یوگو سلاویہ  تقسیم ہو گئے، تو بھارت میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ،اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ  چکنز نیک ریاستوں  میں کسی بھی تحریک کو شدت سے چلانے کے لیے، اپریل تک انتظار کرنا ضروری ہے تاکہ موسم  موافق ہو جائے ،اس سے قبل تحریک شدت نہیں پکڑ سکتی، ہاں چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ 
بنگالی اس بات کو سمجھتے ہیں اور بھارت سے براہ راست تصادم کے لیے بھی تیار ہیں ، ان کو چین کی مکمل آشیر باد ہے ۔اگر  بھارت  کی بنگلہ دیش  سےکشیدگی بڑھتی ہے ،اور چین اس میں کودتا ہے تو بھارت کو یقین ہونا چاہیے کہ امریکہ اور روس اس کی مدد کو بالکل نہیں آئیں گے، اور اگر آئے  بھی تو نتائج ان کی سوچ کے برعکس ہو گے ۔اب رہ جاتا ہے لے دے کے  پاکستان ۔ہمسائیہ ملک میں  جنگ چھڑی ہو گی تو اثرات ہم تک بھی ہوں گے۔بنگالی ہمارے مسلمان بھائی بھی تو ہیں ،اور چینی   دوست ۔یہ دونوں کسی  معرکے میں اترے تو ہم کیسے پیچھے رہ پائیں گے ۔
غزہ امن فورس بھی اپریل مئی تک کام شروع کرے گی ،اور بھارت  بنگلہ دیش کشیدگی بھی انہیں دنوں میں بڑھنے کی قیاس آرائیاں ہیں ، پاکستان کے لیےاس صورتحال میں فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا کہ  وہ غزہ میں امن فوج بھیجے یا نہیں۔  برطانیہ اور جرمنی کے بعد دنیا بھر میں پاکستان ہی وہ ملک ہے جس کی افواج ایک ہی وقت میں، متعدد محاذوں پر با آسانی  اپنے فرائض منصبی سر انجام دینے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔ اس بارے میں فیصلہ اور لائحہ عمل  آنے والے وقت میں ہی  طے ہوگا۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے

ٹیگز: