غزہ : غزہ میں سکیورٹی استحکام کے لیے ایک بڑی بین الاقوامی پیشرفت ہوئی ہے، جس میں پانچ ممالک نے غزہ سٹیبلائزیشن فورس کے لیے فوج بھیجنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس اجلاس میں اس حوالے سے اہم اعلان کیا گیا۔ امریکی آرمی اہلکار نے بتایا کہ انڈونیشیا کو غزہ استحکام فورس کا نائب کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جو عرب ملکوں میں پہلی فوجی شمولیت ہے۔ مراکش نے بھی غزہ فورس کے لیے فوج بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
غزہ استحکام فورس کے لیے 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اور انڈونیشیا نے 8 ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ البانیہ، قازقستان اور کوسووو نے بھی اس فورس کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ مصر اور اردن نے غزہ میں پولیس کی تربیت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اس اجلاس میں غزہ کے لیے ایک سکیورٹی منصوبہ بھی پیش کیا گیا جس کے تحت رفاہ شہر کی تین سال میں ترجیحی بنیادوں پر تعمیر نو کی جائے گی، 200 ہوٹل بنائے جائیں گے، اور 12 ہزار پولیس اہلکاروں اور 20 ہزار اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت دی جائے گی۔