جنیوا : ایران اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم مذاکرات آج جنیوا میں ہو رہے ہیں۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے نمائندے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔ مذاکرات کے بعد ماہرین کی سطح پر تفصیلی اور منظم بات چیت (Structured Dialogue) بھی ہوگی، جس میں جوہری پروگرام اور ممکنہ جنگ بندی پر بات ہوگی۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے، جب کہ ہفتے کے روز استنبول میں او آئی سی کا خصوصی اجلاس ہوگا، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی شرکت اور ترک صدر کا خطاب متوقع ہے۔
ایران نے "آپریشن وعدہ صادق سوم" کے تحت اسرائیل پر تازہ حملے کیے، جن میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیل کی فوجی یونٹ 8200 کو شدید نقصان پہنچا ہے، جب کہ جنوبی اسرائیل میں ایک ملٹری اسپتال پر حملے میں 130 سے زائد افراد زخمی اور متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کا ایک اور ڈرون ایرانی صوبے لورستان میں مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ "فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے" اور اگر قوم متحد رہی تو دشمن کو شکست دینا ممکن ہے۔ انہوں نے قوم کو حوصلہ نہ ہارنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ مایوسی دشمن کو مضبوط بنائے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل کی فوجی قیادت اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فوجی علاقوں سے دور رہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ایران میں سینکڑوں عام شہریوں کو قتل کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 639 افراد شہید اور 1,220 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ایرانی حملوں میں 27 اسرائیلی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔