تہران: اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشات پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) اور عالمی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے نطنز اور فوردو جیسے حساس جوہری مراکز نشانے پر ہیں، جہاں یورینیم کی افزودگی جاری ہے۔ ان تنصیبات میں یورینیم 235 کی سطح 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو جوہری ہتھیار کی تیاری کے قریب ترین سطح مانی جاتی ہے۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ فوجی کارروائیوں سے تابکاری کے اخراج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے قریبی آبادی اور ماحول متاثر ہو سکتے ہیں۔
برطانوی ماہرین کے مطابق اگرچہ افزودہ یورینیم بذات خود اتنا ریڈیو ایکٹو نہیں کہ کوئی فوکوشیما یا چرنوبل جیسا جوہری حادثہ ہو، لیکن اس کے قریبی علاقوں میں رہنے والوں کو نقصان ہوسکتا ہے