تہران: ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو ایران اس کا ذمہ دار صرف اسرائیل کو نہیں بلکہ امریکہ کو بھی ٹھہرائے گا۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کسی بھی غیر قانونی حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ عراقچی نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو امریکا کو بھی اس کا شریک تصور کیا جائے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی نیوز چینل سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل حملے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ حملے کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں۔
اس ساری صورتحال کا پس منظر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری معاہدے پر مذاکرات ہیں۔ ہفتے کو روم میں بات چیت کا پانچواں دور ہونا ہے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان یورینیم افزودگی کے مسئلے پر اختلاف بدستور موجود ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران کا پروگرام ایٹمی ہتھیاروں کی طرف جا سکتا ہے، جبکہ ایران اس الزام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔