اسلام آباد:پاکستان اور چین کے مابین مثالی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی موقع پر سینیٹ کا اجلاس خصوصی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اجلاس کے دوران چین کے اعلیٰ سطح کے وفد نے سینیٹ ہال کا دورہ کیا اور مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر کارروائی دیکھی، جہاں ایوان کے ارکان نے ڈیسک بجا کر چینی مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے چینی وفد کو ایوان میں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور دونوں برادر ممالک کے تعلقات مضبوط ترین باہمی اعتماد اور مخلصانہ تزویراتی شراکت داری پر استوار ہیں، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے توانائی بحران کے حل میں چین کے تاریخی اور کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا چین نے پاکستان میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں سب سے بڑھ کر مدد کی ہے۔ سی پیک (CPEC) اور دیگر توانائی منصوبوں کے ذریعے چین نے ریکارڈ مدت میں بجلی پیدا کر کے پاکستانی معیشت کو سہارا دیا اور ملک کو اندھیروں سے نجات دلائی۔
ایوانِ بالا کے اراکین نے بھی وزیرِ خارجہ کے اس موقف کی تائید کی اور عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی کی یہ 75 سالہ خوبصورت یادگار آنے والی نسلوں کے لیے بھی ترقی اور خوشحالی کا ضامن بنی رہے گی۔