کیلیفورنیا:اگلے 25 سالوں یعنی 2050 تک سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی زندگی کیسی ہوگی، اس حوالے سے ایک نئی سائنسی تحقیق نے حیرت انگیز پیش گوئیاں کر دی ہیں۔
آج سے چند دہائیاں پہلے سوشل میڈیا کا تصور بھی کمزور تھا، مگر آج یہ نوجوانوں اور مشہور شخصیات کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے بڑے انفلوئنسرز اپنی روزمرہ زندگی، دلچسپیوں اور رشتوں کو شیئر کر کے لاکھوں روپے ماہانہ کماتے ہیں۔
تاہم، اس تحقیق میں سوشل میڈیا کے منفی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق، یہ پلیٹ فارمز بعض اوقات احساسِ کمتری، ذہنی دباؤ، تنہائی اور نیند کی کمی جیسے مسائل کو بڑھا دیتے ہیں۔
ماہرین نے خاص طور پر ان لوگوں کو خبردار کیا ہے جو انفلوئنسر بننے کا خواب دیکھتے ہیں۔ تحقیق میں “ایوا” نامی ایک خاتون کی تصویر دکھائی گئی ہے، جو طویل مدت تک اسمارٹ فون کے استعمال کے باعث “ٹیک نیک” سنڈروم اور جلدی مسائل کا شکار ہو چکی ہے۔

سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی گردن 15 سے 60 ڈگری تک جھکی رہتی ہے، جو گردن کے درد اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔
انفلوئنسرز اکثر ہفتے میں 90 گھنٹے کام کرتے ہیں، جس میں زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزرتا ہے۔روزمرہ میک اپ اور کاسمیٹکس کے استعمال سے جلد پر سرخ دھبے اور دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔LED لائٹس اور مصنوعی روشنی کا طویل استعمال جلد کی جلد بوڑھی ہونے کی رفتار بڑھاتا ہے۔نیلی روشنی کے زیادہ استعمال سے زندگی کی مدت کم ہونے اور دماغی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
یہ تحقیق سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے طرزِ زندگی کے ممکنہ جسمانی اور ذہنی اثرات کی واضح تصویر پیش کرتی ہے، جس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔