لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی یوتھ میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، ملک میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت نوجوانوں کو مناسب مواقع اور بہتر نظام فراہم کرنے کی ہے۔
ایپ سپ ایکسیلینس ایوارڈز 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبد الرحمان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے ہر سال کی طرح اس سال بھی بہترین کوشش کی اور شعبہ تعلیم سے وابستہ بڑے دماغوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ وہ ایک سیاستدان کی حیثیت سے تقریب میں شریک ہیں، جبکہ یہاں موجود وائس چانسلرز اور ریکٹرز 40 سے 50 سال کے تجربے کے حامل ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر نیاز اور ڈاکٹر اقرار کی گفتگو کو بھی سراہا اور کہا کہ وائس چانسلرز اور ریکٹرز اپنے اپنے اداروں میں تعلیم کے فروغ کے لیے اچھا کام کر رہے ہیں۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ ملک میں بہتری آ رہی ہے، تاہم ابھی مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں اور انڈسٹری کے درمیان موجود خلا ختم کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کو مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ انڈسٹری کو کس نوعیت کے ہنر مند افراد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بنیان مرصوص آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئی ٹی ماہر نوجوانوں نے بھارت کو شکست دی، جس پر پوری دنیا حیران ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی تک اس یونیورسٹی کا علم نہیں ہو سکا جہاں سے ان باصلاحیت نوجوانوں نے تعلیم حاصل کی۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ ان کے پاس آنے والے تقریباً 80 فیصد معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں ڈاکٹرز دوسرے ممالک جا کر واپس نہیں آتے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نظام کی بڑی کمزوری ہے، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت قابل وائس چانسلرز موجود ہیں جنہوں نے اپنے اداروں کو کامیاب بنایا، تاہم پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو مناسب فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے۔ ہماری ترجیح تعلیم نہیں ہے، حالانکہ تعلیم کو سب سے زیادہ ترجیح ملنی چاہیے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ اللہ نے انہیں پاکستان کی وجہ سے عزت دی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں تعلیم اور صحت کے شعبے بہتر ہوں۔