کابل/لندن: افغانستان پر قابض طالبان رجیم کے دورِ حکومت میں ملک شدید معاشی بحران، غربت اور غذائی قلت کی دلدل میں دھنس چکا ہے، جس نے افغان عوام پر بھوک اور مایوسی مسلط کر کے ان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ قحط سالی کی اس سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کے روٹی اور قرض کے بدلے فروخت ہونے کے لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس سے انسانیت سسک اٹھی ہے۔
'بی بی سی' کی ایک رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کے تحت جاری معاشی بدحالی نے افغان شہریوں کی زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔ غریب افغان خاندان دو وقت کی روٹی کے حصول اور بقا کی جنگ جیتنے کے لیے اپنے جگر کے ٹکڑوں کا سودا کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں بنیادی انسانی حقوق اور خوراک کی عدم دستیابی نے پورے ملک کو ایک بڑے المیے سے دوچار کر دیا ہے۔