واشنگٹن :امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تزویراتی تعلقات اس وقت شدید بحران کا شکار ہو گئے جب ایک ٹیلیفونک رابطے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایک معروف امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے اپنی سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطلع کیا کہ ثالثی کرنے والے ممالک کے تعاون سے امریکہ اور ایران کے مابین ایک دستخطی خط پر کام تیزی سے جاری ہے، جس کے فوری بعد دونوں ممالک کے درمیان 30 روزہ باقاعدہ مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے مابین اس پسِ پردہ ڈپلومیسی کی خبر سنتے ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آگ بگولا ہو گئے اور انہوں نے امریکی اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا، جس کے باعث دونوں رہنماؤں کی گفتگو انتہائی تلخ موڑ اختیار کر گئی۔
عالمی سیاست میں اس بڑی دراڑ کی خبر عام ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی دفترِ وزیراعظم، دونوں نے ہی اس معاملے پر گہری خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس حساس سفارتی کشیدگی پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے مکمل گریز کیا جا رہا ہے۔